لاہور ہائیکورٹ کا جمعرات
صبح دس بجے تک زمان پارک پولیس آپریشن فوری روکنے کا حکم ، زمان پارک کے
باہر پولیس اور پی ٹی آئی کارکنوں میں جھڑپوں میں درجنوں زخمی ، زمان پارک
کے باہر پولیس اور پی ٹی آئی کارکنوں میں جھڑپوں میں درجنوں زخمی
لاہور
ہائیکورٹ نے کل صبح دس بجے تک عمران خان کی گرفتاری کےلیے زمان پارک میں
پولیس آپریشن فوری طور پر روکنے کا حکم دے دیا ، لاہور کے زمان پارک میں
تحریک کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے لیے ہونیوالے تصادم کے نتیجے میں
مجموعی طور پر 59 افراد زخمی ہوئے جن میں 51 پولیس اہلکار شامل ہیں ۔
پولیس
نے پی ٹی آئی کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ اور واٹر کینن کا
استعمال کیا جبکہ پی ٹی آئی کارکنوں نے پولیس اور رینجرز پر پتھراؤ کیا۔
اس
سے قبل لاہور میں زمان پارک کے باہر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)
اور پولیس و رینجرز کے درمیان کشیدگی برقرار رہی ، پولیس نے مظاہرین پر
شیلنگ کی۔ پولیس آپریشن کو18 گھنٹے جاری رہا ۔ تین اضلاع کی پولیس آپریشن
میں حصہ لے رہی تھی۔ رینجرز کے دستے بھی مال روڈ پر موجود تھے۔
اس
دوران عمران خان اپنے کارکنان سے ملنے کیلئے گھر سے باہر آگئے اس دوران
انہوں نے آنسو گیس کی شیلنگ سے بچنے کیلئے چہرے پر ماسک پہن رکھا تھا۔
پی ٹی آئی چیئر مین نے اپنے گھر کے احاطے میں کار کنان سے ملاقات کی اور ان سے بات چیت کرتے نظر آئے۔
دوسری
جانب لاہور ہائیکورٹ میں زمان پارک میں پولیس آپریشن روکنے کے لیے فواد
چوہدری کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب شان گل عدالت میں پیش
ہوئے۔
زمان
پارک میں پولیس آپریشن کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران آئی جی پنجاب
نے عدالتِ عالیہ کو بتایا کہ پیٹرول بم سے ہماری گاڑیاں جلا دی گئیں، پی
ایس ایل کی سیکیورٹی کو دیکھنا ضروری تھا، رینجرز کی گاڑیوں پر پیٹرول
گرایا گیا
عمران
خان کے وکیل نے کہا کہ میں عمران خان کا دفاع نہیں کر رہا لیکن جو زمان
پارک کے باہر ہو رہا ہے وہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، جنگی زون بن چکا
ہے ، ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ عمران خان معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر
سماعت ہے، یہ درخواست لاہور ہائیکورٹ میں قابل سماعت نہیں ہے۔
جسٹس
طارق سلیم شیخ نے کہا کہ جو بھی اسلام آباد پولیس کی طرف سے آپریشن لیڈ کر
رہا ہے ہم اسے بلا لیتے ہیں، اس معاملے کو کسی طرح ٹھیک بھی تو کرنا ہے،
اگر اسلام آباد پولیس کے افسر عدالت میں پیش نہ ہوئے تو ہم انکے وارنٹ جاری
کریں گے۔
وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ اسلام آباد پولیس لاہور ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی۔
عدالت
نے چیف سیکرٹری پنجاب ، آئی جی پنجاب اور اسلام آباد پولیس کی طرف سے
آپریشن کی سربراہی کرنے والے افسر ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد شہزاد
بخاری کو فوری پیش ہونے کا حکم دے دیا۔
وقفے
کے بعد آئی جی پنجاب عدالت میں پیش ہوئے تو جسٹس طارق سلیم شیخ نے ان سے
کہا کہ اگر ہم اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے تک آپریشن روک دیں تو کوئی
اعتراض ہے؟
آئی
جی پنجاب نے جواب دیا کہ ہم عدالت کے ہر حکم پر عمل درآمد کے پابند ہیں ،
لاہور ہائیکورٹ نے کل صبح دس بجے تک پولیس آپریشن روکنے کا حکم دے دیا۔
دوسری
جانب توشہ خانہ فوجداری کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم
عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار رکھے ہیں جبکہ چیئرمین پی
ٹی آئی کی انڈر ٹیکنگ کل ٹرائل کورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔