چارسدہ، وقت آگیا ہےعدلیہ کوبہترین بنایاجائے، انصاف کاکام ایک خصوصیت ہے قسمت سےیہ عہدہ ملتاہے، چیف جسٹس
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ انصاف فراہم کرنا ہماری عبادت ہے، انصاف کاکام ایک خصوصیت ہےقسمت سے یہ عہدہ ملتا ہے، قومیں لیڈرشپ اورجوڈیشل سسٹم سے تر قی کرتی ہیں۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے چارسدہ میں نئے جوڈیشل کمپلیکس کا افتتاح کردیا، تقریب سے خطاب میں جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اللہ کی ذات عزت وذلت دیتی ہے، ادارےعمارتوں سےنہیں شخصیات سےبنتےہیں اور شخصیات کی بنیاد پر پہچان بن جاتے ہیں۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وقت آگیا ہےعدلیہ کوبہترین بنایاجائے، انصاف کاکام ایک خصوصیت ہے قسمت سےیہ عہدہ ملتاہے، انصاف فراہم کرنا ہماری نوکری نہیں ہماری ذمہ داری ہے۔
جو مجھ سے سوال کرے اور میں یہیں کھڑے کھڑے اس کا فیصلہ کردوں ‘چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے چارسدہ بار کی تقریب سے خطاب کے دوران وکلا کو مخاطب کرکے کہا وہ یہاں مانگنے کیلئے آئے ہیں ان کے پاس دینے کیلئے کچھ نہیں ہے، ’میں آپ سے تعاون اور محبت مانگتاہوں تاکہ عوام کو بنیادی حقوق مل سکیں کیونکہ عوام کو حقوق آپ کی مدد سے مل سکتے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کاش میرے پاس کوئی سال آئے اور کہے میرا یہ مسئلہ ہے ، میرے ساتھ جسٹس عمر عطا بندیال موجود ہیں، میں یہیں کھڑے کھڑے اس کو اس کا حق دلواؤں گا، کا پرابلم جو مجھے بتائے، آپ کے بنیادی حقوق کی فراہمی کیلئے ہروقت حاضر ہوں‘۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اللہ نے ہمیں ایک فریضہ انجام دینے کی فضیلت بخشی ہے،تمام لوگوں کو اس کمپلیکس کے حوالے سے مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔
انسٹی ٹیوشنز میں عمارت صرف ایک نشانی ہوتی ہے لیکن انسٹی ٹیوشنز شخصیات سے بنتی ہیں ،قومیں علم،لیڈرشپ ،جوڈیشل سسٹم اور انسٹی ٹیونشنز کے اچھے اقدامات سے ہی ترقی کرتی ہیں ۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ کو انصاف کی فراہمی کے
کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ تمام سو موٹو ایکشن انسانی بنیادی حقوق کے تحت لیے گئے ہیں،تعلیم ایک بنیادی حق ہے اس کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا، اگر لوگوں کو انصاف اور ان کے حقوق نہین ملیں گے تو یہ عمارت پتھر کی ہی رہ جائے گی،چیف جسٹس نے کہا کہ آج کہتا ہوں کوئی بھی انہیں بتائے جس کو اپنے بنیادی حقوق نہیں مل رہے ۔ہیومن رائٹس کے حوالے سے کسی کو بھی کوئی مسئلہ ہو گا تو حل کروانے لیے وہ ہر ممکن کو شش کریں گے ۔