کراچی، میرے مقابلے جعلی تھے یا اصل یہ میں بعد میں بتاوں گا پہلے مقدمے کا چالان آنے دیں،راؤ انوار
انسداد دہشت گردی عدالت میں نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت ہوئی ، سابق ایس
ایس پی راؤ انوارسمیت 10 ملزموں کوعدالت میں پیش کیا گیا، راؤ انوار کوجیل
بھیجنے کا حکم جبکہ ڈی ایس پی قمر سمیت دیگر ملزموں کے ریمانڈ میں توسیع
کردی گئی۔
30 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد راؤانوارکو انسداد دہشتگردی کی
عدالت میں پیش کیا گیا، ملزم کو سخت سیکورٹی میں عدالت لایا گیا، راؤ انوار
کے ہمراہ 12 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا۔
تفتیشی افسر ڈاکٹر رضوان نے عدالت کو بتایا کہ ملزم سے ابھی تفتیش جاری
ہے، جے آئی ٹی بنا دی گئی ہے، رپورٹ کے بعد حقائق پیش کیے جائیں گے۔ ڈاکٹر
رضوان نے حتمی چالان عدالت میں پیش کرنے کے لیے ایک ہفتہ کی مہلت مانگی۔
عدالت نے ملزم راؤ انوار کو 2 مئی تک عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم
جبکہ 10 ملزمان کےعدالتی ریمانڈ میں توسیع کردی،عدالت نے کیس کی سماعت 2
مئی تک ملتوی کردی۔
صحافی کے سوال کاجواب دیتے ہوئے راؤ انوار نے کہا کہ میرے مقابلے جعلی
تھے یا اصل یہ میں بعد میں بتاوں گا پہلے مقدمے کا چالان آنے دیں، جے آئی
ٹی بننے کے بعد سب واضح ہوجائے گا، سب کو پتہ چل جائے گا کہ میرے مقابلے
جعلی تھے، ابھی دوران تفتیش کچھ نہیں کہوں گا۔