اسلام آباد،سابق وزیر اعظم نواز شریف کی احتساب عدالت میں پیشی
سابق وزیراعظم نوازشریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت ہوئی۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت
کی، اس موقع پر نامزد ملزمان نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد
صفدر کمرہ عدالت میں موجود تھے۔
ایون فیلڈ ریفرنس میں استغاثہ کے گواہ ڈی جی آپریشنز نیب ظاہر شاہ پر مریم
اور کیپٹن (ر) صفدر کے وکیل امجد پرویز نے جرح کی،ظاہر شاہ نے عدالت کو
بتایا کہ والیم ٹین کی کاپی رجسٹرار سپریم کورٹ کے خط کے ذریعے حاصل کی جسے
کوآرڈینیشن آفیسر نے وصول کیا تھا تاہم نیب نے سپریم کورٹ میں والیم ٹین
وصول کرنے کی رسییونگ نہیں دی۔
نیب کے گواہ ظاہر شاہ نے کہا کہ نیب پراسیکیوشن ونگ نے والیم ٹین کے لیے
سپریم کورٹ کو خط لکھا تھا، والیم ٹین کا متعلقہ حصے کا تبادلہ تفتیشی افسر
کے علاوہ کسی کے ساتھ نہیں کیا۔
وکیل صفائی امجد پرویز نے سوال کیا کہ 27 مئی 2017 کو کیا آپ نے یوکے سنٹرل
اتھارٹی کو خط لکھا جس پر گواہ ظاہر شاہ نے کہا کہ خط میں نے نہیں ، جے
آئی ٹی نے لکھا تھا۔
اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے مداخلت کی تو مریم نواز کے وکیل نے کہا کہ
'پراسیکیوٹر صاحب آپ گواہ کو کیوں بتا رہے ہیں' جس پر نیب پراسیکیوٹر افضل
قریشی نے کہا کہ میں کچھ نہیں بتارہا صرف تاریخ کے بارے میں بتایا ہے۔