اسلام آباد، 30 جون تک زرمبادلہ کے ذخائر مزید بڑھ جائیں گے،وزیر خزانہ
وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے برآمدات کیلئے مراعاتی پیکیج جلد کرنے کی یقین
دہانی کراتے ہوئے اس تاثر کو مسترد کیاکہ اگلے مالی سال کے دوران محکموں کے
اخراجات میں اضافہ ہوگا۔
اسلام آباد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر کے ہمراہ بعدازبجٹ نیوز
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو
ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ نئے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھائی
گئی ہیں،جی ڈی پی کی گیارہ فیصد گروتھ رکھی گئی ہیں،انہوں نے کہا کہ بجٹ
بہت سوچ سمجھ کر بنایا گیا ہے، صرف ریلیف کا نہیں بلکہ متوازن بجٹ بنایا
گیا ہے، ہم نے نان فائلرز پر ٹیکس ریٹ بڑھایا ہے، گفٹ اسکیم کو صرف رشتے
داروں تک محدود کیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ترسیلات زر پر ٹیکس لگایا ہے،نادرا سے معلومات
کے تبادلے سے نئے ٹیکس فائلر کی شناخت کریں گے، ایک کروڑ سے زائد ترسیلات
زر پر ٹیکس لگے گا،حکومت نے 12 ہزار میگا واٹ سے زائد کے پلانٹ لگائے بیل
آؤٹ پیکج کے لیے آئی ایم ایف کی طرف جانے کا کوئی ارادہ نہیں، توانائی کے
شعبے کو 100 ارب کے فنڈز جاری کیے جائیں گے، 30 جون تک زرمبادلہ کے ذخائر
مزید بڑھ جائیں گے۔
محاصل کے بارے میں وزیراعظم کے معاون خصوصی نے کہاکہ موجودہ حکومت کے پانچ
سالہ دور میں ایف بی آر کے محصولات دگنا ہوئے ہیں،انہوں نے کہاکہ افراط زر
چار اعشاریہ پانچ تک رکھی گئی ہے،صوبوں کومالیاتی منتقلیاں ایک ہزار تین سو
ارب روپے سے بڑھا کر اگلے مالی سال میں تئیس سوارب روپے کردی گئی ہیں۔
ہارون اختر نے کہاکہ تین سال میں ایک بار ٹیکس آڈٹ ہوگا جبکہ تنخواہ دار
طبقے کو آڈٹ سے مکمل استثنی دیاگیا ہے، ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے حوالے سے
سادہ نظام بھی متعارف کروایا گیا ہے، معاون خصوصی نے اگلے مالی سال کیلئے
بجٹ میں محاصل بڑھانے کے اقدامات کو بھی اجاگر کیا۔