پشاور، گرمی کی شدت بڑھتے ہی ہاتھ سے بنے دستی پنکھوں کی مانگ میں اضافہ ہوگیا
پشاور میں گرمی کی شدت بڑھتے ہی ہاتھ سے بنے دستی پنکھوں کی مانگ میں اضافہ
ہوگیا ہے،مینا بازار سے متصل چوک یاد گار میں درجنوں ایسی دکانیں ہیں جہاں
دستی پنکھیں دستیاب ہیں ۔
پنکھوں کو تیار کرنے کے لئے ٹل اور پارا چنار سے پٹا پشاور لایا جاتا ہے جو
چار سے پانچ کاریگر کے ہاتھوں سے ہوتا ہوا یہ دستی پنکھے کی شکل اختیار
کرتا ہے،ملک بھر میں بجلی کی بڑھتی لوڈ شیڈنگ سے روز بروز اس کی مانگ میں
اضافہ بڑھتا جا رہا ہے اور یہ بیس روپے سے ستر روپے تک میں فروخت ہوتی
ہیں،سادہ پنکھیاں تو گاؤں سے آئے ہوئے لوگ خرید کر لے جاتے ہیں جبکہ شہر کے
لوگ مختلف رنگوں کے کپڑوں سے بنی خوبصورت پنکھیا ں بڑے شوق سے خریدتے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ لوڈشیڈنگ کے عذاب سے نجات پانے کے لیے سستا ترین نسخہ
دستی پنکھی ہے جو کہ کم قیمت میں گرمی کو بھگانے میں مدد دیتی ہیں،شہریوں
کا کہنا ہے کہ جنریٹر اور سولر انرجی کا سسٹم مہنگا ہونے کی وجہ سے ان کی
پہنچ سے دور ہے اور مجبورا ان کو دستی پنکھے خرید کر گر می کو کم کرنے میں
مدد ملتی ہے۔
اس موقع پر ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئےدکاندار علی رحمان کا کہنا تھا
ایک شہری شہزاد فہد کا کہنا تھا
ایک اور شہری نذیر اعوان کا کہنا تھا