اسلام آباد،سابق وزرائے اعلیٰ ثناء اللہ زہری اور عبدالمالک بلوچ سپریم کورٹ میں پیش
سپریم کورٹ میں بلوچستان میں پانی کی قلت سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی،سابق وزرائے اعلیٰ ثناء اللہ زہری اور عبدالمالک بلوچ عدالت میں پیش ہوئے۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے سابق وزرائے اعلیٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری اورعبدالمالک بلوچ سے استفسار کیا کہ بلوچستان میں 6054 اسکولوں کی دیوار اور ٹوائلٹ نہیں ہیں، جھیلیں سوکھ گئی ہیں آپ نے کیا اقدامات کیے؟۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نےسابق وزرائے اعلیٰ بلوچستان سے کہا کہ بجٹ کا ایشو مت بتائیے گا کہ پیسہ نہیں ہے، ہمیں توبلوچستان کی بہت فکرہے،آپ نے حکومت کو فعال کرنے کی کوشش کی؟۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں بتائیں عدلیہ بلوچستان کے حالات کے حوالے سے کیا کردار ادا کر سکتی ہے، عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں غیر جانبدارانہ الیکشن ہونا چاہیے، آج تک غیر جانبدار الیکشن نہیں ہوا، بلوچستان کو وفاق سے اس کا حصہ نہیں ملتا۔
سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت جمعہ تک ملتوی کردی ہے۔
سماعت کے بعد ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثنا اللہ زہری کا کہنا تھا کہ بلوچستان پتھر کے دور میں چلا گیا تھا، سریاب کے علاقے میں لوگ جا نہیں سکتے تھے، ان کے اور ڈاکٹر عبدالمالک کے آنے کے بعد حالات بہتر ہوئے، عدالت اس کی تعریف بھی کرے۔
عبدالمالک بلوچ کا کہنا تھا کہ انہوں نے سب سے پہلے امان وامان کی صورتحال کو بہترکیا، 2013 کا الیکشن ایک جنگ تھی۔