کراچی،سابق ایس ایس پی ملیرراؤ انوار کی شاہانہ انداز میں احتساب عدالت میں پیشی
انسداد دہشت گردی کی عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس میں ملزمان پر 19مئی کو فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے،کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں مرکزی ملزم را ؤانوار اور ڈی ایس پی قمر احمد سمیت دیگر ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا۔پولیس را ؤانوار کو وی آئی پی پروٹوکول میں عدالت لائی اور بکتر بند سے کورٹ روم تک درجنوں اہلکاروں و افسران نے ملزم کو سیکیورٹی فراہم کی۔
نقیب اللہ قتل کیس میں اہم موڑ اس وقت آیا جب واقعہ کا عینی شاہد پولیس اہلکار شہزادہ جہانگیر اپنے بیان سے منحرف ہوگیا جس نے پہلے کہا تھا کہ وہ نقیب اللہ قتل ودیگر کے قتل کے موقع پر جائے وقوعہ پر موجود تھا, اب شہزادہ جہانگیر نے کہا ہے کہ یہ بیان پولیس نے دباو پر زبردستی لیا, اس کا نقیب اللہ قتل کیس سے کوئی تعلق نہیں, عدالت نے ملزمان کو مقدمہ کی نقول فراہم کردی ہیں اور آئندہ سماعت پر فرد جرم عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے راو انوار نے کہا ہے کہ اب چالان عدالت میں پیش کیا جا چکا, کسی کو کوئی اعتراض ہے یا لڑنا ہے تو عدالت میں آئے۔