کوئٹہ،بلوچستان اسمبلی کا اجلاس بد نظمی کا شکار
بلوچستان اسمبلی کا اجلاس پینل آف چیئرپرسن شاہدہ روف کی زیر صدارت شروع ہوا،پشتونخوا ملی عوامی اورنیشنل پارٹی کےارکان نے اجلاس سےواک آؤٹ کیا،اپوزیشن ارکان نے بجٹ دستاویز پھاڑ دیں،حکومتی اراکین کے ساتھ ساتھ جمعیت کے اراکین بھی باہر نکل گئے۔
جمعیت علما اسلام اور پشتونخوا کے ارکان ایوان میں گتھم گتھا ہو گئے،وزیر اعلی اور وزیر داخلہ نے ارکان کو بمشکل دوبارہ بٹھایا۔
اس موقع پراپوزیشن رکن رحمت بلوچ کا کہنا تھا کہ اکثریت کے دعویداروں کے پاس کچھ نہیں ضمنی بجٹ پاس نہیں کرسکتے،ضمنی بجٹ کی منظوری میں ناکامی پر وزیر اعلی اور کابینہ کو مستعفی ہونا چایئے،رکن اسمبلی یاسمین لہڑی کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اراکین کی موجودگی میں کورم نہیں ٹوٹ سکتا۔
ایوان میں 19 مطالبات زر پیش کیے جانے تھے لیکن ایک بھی پیش نہ کیا جا سکا،اپوزیشن کے شور شرابے کی وجہ سے پینل آف چئیرمین نے اسمبلی کا اجلاس 18 مئی سہ پہر 3 بجے تک ملتوی کردیا۔