اسلام آباد،چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا تقریب سے خطاب
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنی حکومت کا 100 دن کا مجوزہ پلان پیش کرتے ہوئے کہا کہ 100 روزہ پلان کا مقصد پالیسیوں کو تبدیل کرنا ہے۔
اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں تحریک انصاف کی جانب سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت کے ابتدائی 100 روزہ پارٹی کی عکاسی کریں گے کہ پارٹی کس راستے پر گامزن ہے،انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کو فلاحی ریاست بنائیں گے اور ہمارا نظریہ مدینہ کی ریاست کا نظریہ ہو گا۔
عمران خان نے کہا کہ ہم نے اداروں کو طاقتور بنانا ہے، کسی بھی ادارے میں سزا و جزا ختم ہو جائے تو ادارہ تباہ ہو جاتا ہے، کرپٹ نظام سے فائدہ اٹھانے والے مافیاز ہر ادارے میں بیٹھے ہوئے ہیں لیکن ہم نے نچلے طبقے کو اوپر لانا ہے اور اس کے لیے سب سے پہلے بیورو کریسی کو سیاست سے پاک کرنا ہو گا،ہم اداروں میں میرٹ کا نظام لائیں گے، سول سروسز میں اصلاحات کریں گے اور گورننس کا نظام ٹھیک کریں گے۔
چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ سی پیک ایک زبردست موقع ہے لیکن سی پیک سے بھی زیادہ سمندر پار پاکستانی ہمارے لیے فائدہ مند ہو سکتے ہیں،بدقسمتی سے ہمارا نظام اوور سیز پاکستانیوں کو سرمایہ کاری کی اجازت نہیں دیتا۔
عمران خان نے مسلم لیگ ن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ن لیگ والے کہتے ہیں کہ کے پی کے میں ایک ارب درخت نہیں لگائے، انہیں شرم آنی چاہیے، عالمی اداروں نے بھی تسلیم کیا کہ خیبر پختونخوا میں ایک ارب درخت لگائے گئے،پنجاب میں بڑے بڑے جنگلات ختم کر دیے گئے، چھانگا مانگا سے 80 فیصد درخت ختم کر دیے گئے، میانوالی کے جنگلات پر بھی قبضہ کر لیا گیا، راجن پور کے جنگلات پر بھی قبضہ کر لیا گیا۔