اسلام آباد،سابق وزیر اعظم نواز شریف،مریم نواز ،کیپٹن صفدر کی احتساب عدالت میں پیشی
سابق وزیراعظم نواز شریف نے ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں مسلسل دوسرے روز اپنا بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ قطری خاندان کے ساتھ کاروبار میں خود شریک نہیں رہا،احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب کی جانب سے دائر ریفرنس کی سماعت کی،اس موقع پر نامزد ملزمان نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کمرہ عدالت میں موجود رہے۔
احتساب عدالت نے نواز شریف سے 128 سوالات کے جواب طلب کر رکھے ہیں اور آج انہوں نے 68 سوالات کے جواب پڑھ کر سنائے جب کہ گزشتہ روز سابق وزیراعظم نے 55 سوالات کے جواب دیے تھے،سابق وزیراعظم نے آج کی سماعت کے دوران قطری شہزادے کے خظ، گلف اسٹیل ملز، کیپٹل ایف زیڈ ای سمیت دیگر اثاثوں سے متعلق پوچھے گئے سوالات کے جواب دیے۔
نواز شریف نے قطری خطوط کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ 22 دسمبر 2016 کا قطری شہزادے کا خط اور ورک شیٹ تسلیم شدہ ہے، قطری خطوط کی تصدیق خود حمد جاسم نے سپریم کورٹ کو خط لکھ کر بھی کی، قطری خاندان کے ساتھ کاروبار میں خود شریک نہیں رہا، سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ورک شیٹ کی تیاری میں بھی شامل نہیں تھا۔ قطری شہزادے نے کبھی جے آئی ٹی کی کارروائی میں شامل ہونے سے انکار نہیں کیا، قطری شہزادے کے آمادہ ہونے کے باوجود بیان قلمبند کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی، جے آئی ٹی نے قطری شہزادے کا بیان خود ریکارڈ نہیں کیا، واجد ضیاء کا تبصرہ سنی سنائی بات ہے۔