پشاور،کے پی کے اسمبلی کا آخری اجلاس بھی کورم کی نذر
پانچ سالوں تک کورم ٹوٹنے کی ہزیمت کاسامناکرنیوالی خیبرپختونخوااسمبلی
کاآخری اجلاس بھی کورم کی نذرہوگیا خیبرپختونخوااسمبلی کااجلاس سپیکرکی
عدم موجودگی میں پینل آف چیئرمین محمودجان کی زیرصدارت ڈیڑھ گھنٹے کی
تاخیرسے شروع ہواتواجلاس کے آغاز پر ضیاء اللہ آفریدی نے کورم کی نشاندہی
کی تین دفعہ گھنٹیاں بجائی گئیں اور اجلاس کو غیرمعینہ مدت تک کیلئے ملتوی
کردیاگیاکیونکہ اس وقت ایوان میں صرف 15 اراکین موجود تھے جب کہ کورم کے
لئے 28اراکین کی ضرورت ہوتی ہے۔
اجلاس کے اختتام سے قبل پینل آف چیئرمین محمودجان نے اختتامی دعامانگتے
ہوئے کہاکہ اللہ ان لوگوں کو دوبارہ اسمبلی میں لائیں جو اس صوبے او رملک
کے ساتھ مخلص ہیں اللہ کبھی بھی ان لوگوں کو منتخب نہ کریں جو اس صوبے اور
ملک کے ساتھ مخلص نہیں اجلاس ملتوی کئے جانے پر شوکت یوسفزئی سمیت
دیگراراکین اسمبلی بھی آپے سے باہرہوگئے شوکت یوسفزئی اپنی اختتامی
تقریرکرناچاہتے تھے تاہم اجلاس ملتوی کئے جانے کے باعث انہیں موقع نہ ملا
اورانہوں نے اپنی لکھی ہوئی تقریرکوپھاڑتے ہوئے ہوامیں اچھال دیا,اسمبلی
ہال میں بعض اراکین نے شیم شیم کے نعرے بھی لگائے۔
اسمبلی عمارت کے باہرمیڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے صوبائی وزیراطلاعات شاہ فرمان
نے کہاکہ آخری اجلاس پرشیم شیم کے نعرے لگناسمجھ سے بالاترہے کیونکہ پینل
آف چیئرمین کے اختتامی کلمات کامقصد صوبے کیلئے اچھی قیادت کی طلب تھی
ایوا ن نے 5 سال کے عرصے میں ریکارڈقانون سازی کی اپوزیشن کے ساتھ اچھے
تعلقات رہے گھرکے اندر 2 بھائیوں کے مابین بھی کبھی کبھارتلخ کلامی ہوجاتی
ہے تاہم صوبائی اسمبلی کے 5 سالوں میں ایساکوئی بڑاواقعہ پیش نہیں آیا
مجموعی طو رپر اسمبلی کی کارکردگی اچھی رہی۔