راولپنڈی، جنگ ابھی جاری ہے، سرحدوں پر بہنے والے لہو کا حساب لینگے، سپہ سالار
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ چھ ستمبر 1965ء ہماری ملکی تاریخ کا ایک اہم دن ہے، یہ وہ دن ہے جب دفاع وطن کیلئے افواج پاکستان نے پوری قوم کی بھرپور حمایت کے ساتھ ایک مکار دشمن کے دانت کھٹے کئے۔ ہر پاکستانی وطن کا سپاہی بنا اور وطن کی حفاظت کیلئے ہم سب نے متحد ہو کر اپنا اپنا کردار ادا کیا۔ ہمارے جوان آگ پر کود پڑے لیکن ملک پر آنچ نہ آنے دی۔ ستمبر 1965ء کی جنگ میں قوم کے عزم اور بہادری کی داستانیں آج بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہیں ۔
یوم دفاع ویوم شہداء کے موقع پر جی ایچ کیو میں منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران سپہ سالار کا کہنا تھا کہ 65ء اور 71ء کی جنگوں سے ہم نے بہت کچھ سیکھا۔ روایتی جنگ کے خطرے کے پیش نظر اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کیا، حتیٰ کے مشکل معاشی حالات کے باوجود اور قوم کے بھرپور تعاون سے ہم ایٹمی طاقت بنے جس سے ملک کا دفاع ناقابل تسخیر ہوگیا لیکن پھر غیر روایتی جنگ کا دور شروع ہوا، گزشتہ دو دہائیوں میں دنیا بھر میں دہشت گردی کی لہر اٹھی، جنگ کی ساخت اور کردار بدل گئے۔ بدقسمتی سے پاکستان بھی اس تبدیلی اور جنگ کا نشانہ بنا۔
انہوں نے کہا کہ ہماری افواج اور قوم نے اس جنگ کو لڑتے لڑتے اور قربانیاں دیتے ہوئے سیکھا۔ اس دوران ہم پر دہشت اور خوف مسلط کرنے کی کوشش کی گئی۔ ہمارے گھروں ،اسکولوں ، عبادتگاہوں، تفریح گاہوں اور ملکی قائدین پر حملے کئے گئے۔ ہمیں اندر سے کمزور اور تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی مگر سلام ہے پاکستانی قوم اور اس کے محافظوں پر جو اس مشکل وقت میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ڈٹے رہے۔ دہشت گردی کے اس ناسورکا ہم سب نے مل کر بھرپور مقابلہ کیا ہے اور بے مثال کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اس جنگ میں تقریباً 70 ہزار سے زائد پاکستانی شہید اور زخمی ہوئے۔ قومی املاک پر بوجھ اور جائیداد واملاک کو نقصان اس کے علاوہ ہے۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ہمیں تمام پاکستانیوں کو خصوصاً قبائلی علاقے ، بلوچستان اور کراچی کے عوام کا شکر گزار ہونا چاہیے جن کے تعاون اور قربانیوں کے بغیر یہ کامیابی ممکن نہیں تھی۔ اس کامیابی کو حاصل کرنے والے قوم کے ان شہیدوں اور غازیوں میں مسلح افواج ، رینجرز، ایف سی، پولیس اور سویلین سب شامل ہیں۔ ان لازوال قربانیوں کو یاد رکھنے اور سلام پیش کرنے کیلئے 2014ء سے ہم یوم دفاع کے ساتھ یوم شہداء بھی مناتے ہیں۔ یاد رکھیئے زندہ قومیں اپنے شہداء کو کبھی نہیں بھولتیں اور جو قومیں اپنے شہداء کو بھول جاتی ہیں وہ مٹ جایا کرتی ہیں۔ ہمارے شہداء نے دفاع وطن کی خاطر اپنا آج ہمارے بہتر مستقبل کیلئے قربان کیا۔
سپہ سالار کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم اپنے ان شہیدوں کا کوئی دنیاوی بدل تو نہیں دے سکتے مگر میں یقین دلاتا ہوں کہ ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ ہم پاکستان کو امن کا گہوارہ بناکر دم لیں گے۔ لہو جو سرحد پر بہہ رہا ہے ہم اس لہو کا حساب لیں گے۔ ہم گزشتہ دو دہائیوں میں بہت سے مشکل دور سے گزرے ہیں۔ ہم نے بہت سی قربانیاں دی ہیں مگر کام ابھی ختم نہیں ہوا، جنگ ابھی جاری ہے۔ ابھی ہمیں دائمی امن کی اصل منزل پرپہنچنا ہے۔ ملکی تعمیر وترقی کو یقینی بنانا ہے اور اسے اس مقام تک پہنچانا ہے جہاں دشمن دوبارہ ہمیں میلی نظرسے نہ دیکھ سکے۔ اس کیلئے ہمیں دفاعی تیاری کے ساتھ ساتھ ملکی تعمیر وترقی کیلئے بھی بھرپور کام کرنا ہے۔
جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ یاد رکھیئے اس جنگ کے ساتھ ساتھ ہماری دوسری جنگ بھوک، افلاس،غربت اور ناخواندگی کے خلاف بھی اسی تیزی سے جاری رہنی چاہیے لیکن ہم اپنے اس ارادے میں اسی صورت میں کامیاب ہونگے جب ہم متحد رہیں گے۔ اپنی ذات سے بالاتر ہو کر ملک کیلئے سوچیں گے۔ کوئی فرد ادارے سے اور کوئی ادارہ فرد سے مقدم نہیں۔ ملکی یکجہتی، استحکام اور ترقی کیلئے جمہوریت کا تسلسل بہت ضروری ہے لیکن جمہوریت جمہوری رویوں ، آئین اور قانون کی بالادستی اور اداروں کی مضبوطی کے بغیر پنپ نہیں سکتی۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس راہ پر گامزن ہوچکے ہیں۔ آج اس تقریب میں ملک کی سیاسی قیادت اور مختلف مکتبہ فکر کے نمائندے موجود ہیں یہ اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ پاکستانی قوم آج پہلے سے بھی زیادہ پرعزم اور متحد ہے یہ ایک پیغام ہے کہ ہم پاکستانی کسی بھی مشکل سے گھبرانے والے نہیں اور جلد از جلد اقوام عالم میں قائد اعظم کے ویژن کے مطابق اپنا جائز مقام حاصل کرلیں گے۔ مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں اور بہنوں کو بھی سلام پیش کرتاہوں جو بہادری اور قربانی کی ایک لازوال تاریخ رقم کررہے ہیں۔