ٹھٹھہ،معصوم بچے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور
سندھ بھر میں تعلیم کے بھتری کے دعوے اور ایمرجنسی کے کھولے وعدے غریبوں کے بچوں سے ایک مذاق نظر آتا ہے دس برس زائد سے مرمتی کام کے لیئے اسکول کی توڑی جانے والی چھتیں تاحال نہ بن پائی۔ ٹھٹھہ شہر کے وینجھر محلہ کے اندر قائم اسکول حکومتی لاپرواہی کی ایک کھلی داستاں ہے سندھ حکومت کے جانب سے بنیادی تعلیم کو تو فری کر دیا گیا مگر بچوں کے لیئے قائم کردہ اسکولوں کی مرمت تک مکمل نہ کروا سکے جسکا ثبوت سٹی میں قائم اسکول ہے جس میں بیٹھ کر پڑھنے والے بچے سالوں سے کھلے آسماں تلے تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ان طلبہ کا کیا قصور ہے جو نہ بجلی نہ چھت ہونے کی باوجود بھی اپنی پڑھائی کو جاری رکھے ہوے ہیں چھوٹے سائیں کے پچھلی حکومت میں کیئے گئے وعدے تو رنگ نہ لا سکے اب آنے والے نئی حکومت میں کیا نئی پالیسی ترتیب جاتی ہے اسکول میں موجود اساتذہ کا کہنا ہے کے دس برس سے بھی زائد کا عرصہ گز چکا ہے شہر میں قائم اس اسکول کو تو جیسے پر لگ گئے ہوں ٹھیکدار پیسے لیکر رفو چکر ھوگیا ہمارے بچے سخت گرمی میں کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں ٹھٹھہ کے وینجھر محلہ کے اسکول کے یے ننھے سے طلبہ اپنے بیٹھنے کے لیئے سائیں سرکار سے صرف اسکول کی چھت مانگ رہیے ہیں