ٹھٹھہ ؛ ملک ميں ظروف سازی کا فن دم توڑ رہا ہے
سندھ دھرتی ثقافت اور ہنر کی امین ہے۔اس کی گود میں کتنے ہی ہنر پروان چڑھے۔ جنہیں زمانے میں بہت پذیرائی ملی انہی ميں سے ايک ظروف سازی ہے جسے ہر دور میں عروج حاصل رہا۔موئن جودڑو سے شروع ہونے والا یہ فن آج آخری سانسيں لے رہا ہے۔کمہار ہاتھہ سے چلنے والی چکی سے مٹی میں جان پھونک کر اسے مختلف اشکال میں ڈھالتا ہیں۔ ليکن انہيں گلہ ہے کہ اتنی محنت کے باوجود وہ مناسب معاوضے سے محروم ہيں
جديد ٹیکنالوجی نے لوگوں کو چینی اور شيشے کی جانب راغب کر دیا اور مٹی کے برتن ماضی کے جھروکوں میں گم ہوتے چلے گئے لیکن وقت کے ساتھہ ان اشیاء کی ضرورت ختم ہوگئی اور نسلوں سے ظروف سازی کے فن کے ساتھ وابستہ يہ کمھار بھی بے روزگار ہو گئے کمہار اپنے ہاتھہ سے ایسی تخلیقات سامنے لاتے ہیں جنہيں دیکھنے والے دنگ رہ جاتے ہیں۔ مگر جدید آلات نہ ہونے کے باعث انہيں مشکلات کا سامنا ہے مٹی کی اہمیت کو سامنے لانیوالے یہ ہنرمند حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ انہیں سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ اپنے آباؤ اجداد کی جانب سے منتقل کیے گئے اس مردہ ہوتے فن کو زندگی بخش سکی