اسلام آباد، قبائل کے رسم و رواج کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے نئے نظام کے نفاذ کو قابل عمل بنایاجائے، وزیر اعظم
وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدرات قبائلی علاقوں (فاٹا)کے انضمام کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا۔ وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں وزیرِ خزانہ اسد عمر، وزیرِ قانون ڈاکٹر فروغ نسیم، وزیر برائے مذہبی امور نور الحق، وزیرِ اعظم کے مشیر شہزاد ارباب، گورنر خیبر پختونخواہ شاہ فرمان، وزیرِ اعلیٰ محمود خان، متعلقہ محکموں کے وفاقی و صوبائی سیکریٹریز اور دیگر افسران شریک ہوئے۔
اجلاس میں قبائلی علاقہ جات کے انضمام کے حوالے سے پیش رفت اور اب تک اٹھائے جانے والے انتظامی و قانونی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں فاٹا انضمام اور قبائلی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لئے اہم فیصلے کئے گئے۔
اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ قبائل کے رسم و رواج کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے نئے نظام کے نفاذ کو قابل عمل بنایاجائے۔نئے نظام کے اطلاق میں قبائلی عوام کی مشاورت یقینی بنایا جائے۔ قبائلی علاقوں کے نوجوانوں کے لئے روزگار کی فراہمی کے مزید مواقع یقینی بنائے جائیں اور اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ انتظامی اقدامات کے نتیجے میں کوئی فرد بے روزگار نہ ہو۔ قبائلی علاقوں کے عوام کے لئے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مختص کوٹہ متاثر نہ ہو۔
وزیرِ اعظم نے سابقہ قبائلی علاقوں میں لوکل گورنمنٹ کے نظام کو رائج کرنے کے لئے کوشش تیز کرنے کی ہدایت بھی کی۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں کی ترقی کے حوالے سے قبائلی عوام کے فیصلوں اور مشاورت کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ان علاقوں میں جلد از جلد لوکل گورنمنٹ سسٹم کا نفاذ کیا جائے۔ ضم ہونے والے قبائلی علاقوں میں صحت، تعلیم اور خصوصا بچیوں کے سکولوں کو بہتر بنانے کے لئے کوششیں تیز کی جائیں اور فوری اور سستا انصاف کی فراہمی کے لئے جلد از جلد طریقہ کار وضع کیا جائے۔
وزیر اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ وفاقی حکومت فاٹا کے لئے ترقیاتی منصوبوں کے لئے درکار فنڈزسے زائد وسائل مہیا کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ این ایف سی ایوارڈ میں فاٹا کے ترقیاتی پیکج کے حصول کے لئے وفاقی حکومت اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کرے گی۔