کابل، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سےملاقات
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نےافغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سےملاقات کی۔ ملاقات کے دوران پاکستانی وفد میں سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شامل تھے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، پاک افغان تعلقات سمیت علاقائی امن اور پاک افغان تعاون پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
اس سے پہلے شاہ محمود قریشی نے افغان ہم منصب صلاح الدین ربانی سے ملاقات کی، مذاکرات میں دو طرفہ امور، علاقائی صورت حال اور افغان امن عمل سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے چیلنجز مشترکہ ہیں، جنہیں مل کر ہی نمٹنا ہوگا، دونوں ملکوں میں تعلقات کو مزید فروغ دینے کی صلاحیت موجود ہے، ہمیں مثبت سمت میں کام کرنا اور تعاون کاعمل مزید بڑھانا ہوگا، افغانستان میں ورکنگ گروپ پر مزید کام کرنے اور آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، علما کونسل کا اجلاس ایک اچھا اقدام ہے، معاملات کے حل کے لیے دونوں اطراف کے علما کرام کی میٹنگ کرائی جا سکتی ہے۔ علماء کرام کی میٹنگ دس محرم کے بعد کسی بھی مناسب وقت میں رکھی جا سکتی ہے۔
ملاقات کے دوران افغان وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان سمیت خطے کے تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں، منصب سنبھالنے کے بعد شاہ محمود کے افغانستان سے متعلق بیان کا خیرمقدم کرتے ہیں، پاکستان اورافغانستان کا امن خطے کا امن ہے، دونوں ملکوں کو مل کر امن کے لئے کام کرنا ہوگا۔
شاہ محمود قریشی کا پی ٹی آئی حکومت کے قیام کے بعد بطور وزیر خارجہ پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کے مطابق وزیر خارجہ کا اپنے پہلے دورے کے لیے کابل کا انتخاب پاکستان کی افغانستان اور علاقائی امن کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، اس کامیاب دورے سے مستقبل میں امن مذاکرات اور باہمی تعلقات میں مزید پیش رفت ہوگی۔