Sep 19, 2018 01:49 pm
views : 367
Location : Parliament House
Islamabad- Govt presents Finance Supplementary (Amendment) Bill
اسلام آباد، وفاقی وزیر خزانہ نے سپلیمنٹری فنانس بل قومی اسمبلی میں پیش کر دیا
وفاقی وزیر خزانہ نے سپلیمنٹری فنانس بل قومی اسمبلی میں پیش کر دیا۔
وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا ہدف معیشت کو استحکام دینا اور روزگار فراہم کرنا ہے، بجٹ میں تبدیلی نہ کی گئی تو مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا مدت پوری کرنیوالی حکومت کو آئندہ مالی سال کیلئے بجٹ پیش کرنے کا اختیار نہیں، گزشتہ حکومت کا پیش کیا گیا چھٹا بجٹ حقائق کے برعکس تھا۔ بجلی کے سیکٹر میں ساڑھے 400 ارب روپے کا ایک سال میں خسارا ہوا، ملک کو قرضوں سے نکالنا ہماری اولین ترجیح ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پچھلے سال بجٹ خسارہ 4.1 تھا، کوشش کریں گے کہ برآمدات میں اضافہ ہو، زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے گر رہے ہیں، بیرونی قرضے 60 ارب سے بڑھ کر 95 ارب تک پہنچ گئے۔ انہوں نے کہا گیس کے شعبے میں 100 ارب سے زائد خسارے کا سامنا ہے، بجٹ میں تبدیلی نہ کی گئی تو مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا موجودہ صورتحال میں خسارہ 7.2 فیصد تک پہنچ سکتا ہے، اگر ہم اسی طرح چلتے رہے تو خسارہ 2 ہزار 900 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔
اسد عمر کا کہنا تھا گردشی قرضوں میں گزشتہ سال 550 ارب روپے اضافہ ہوا، گیس سیکٹر میں زیر گردشی قرض 150 ارب روپے تک پہنچ گئے، زرمبادلہ کے ذخائر 2 ماہ کی درآمداد کے لیے ناکافی ہیں۔ انہوں نے کہا روپے کی قدر میں کمی سے پٹرول مزید 20 روپے مہنگا ہوسکتا ہے، زیادہ تنخواہ والے افراد پر گزشتہ سال کی نسبت ٹیکس کم کر رہے ہیں، کراچی کے انفرا اسٹرکچر کے منصوبوں کیلئے 50 ارب رکھے گئے ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا اسمبلی ارکان کی مراعات پر ٹیکس استثنیٰ ختم کیا جا رہا ہے، سی پیک کے منصوبوں میں ایک روپے کمی نہیں آنے دیں گے، 30 سال میں ہم نے کوئی کامیابی حاصل نہیں کی، مالی سال 2018 میں 661 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ تھا، رواں مالی سال ترقیاتی بجٹ 725 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا دیامر اور بھاشا ڈیمز کو 6 سال میں تعمیر کیا جائے گا۔
اسد عمر نے پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں اضافہ واپس لینے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا وزیراعظم، وزرا اور گورنرز کے الاؤنسز پر ٹیکس استثنیٰ ختم کر رہے ہیں، نئے مالیاتی بل میں مختلف شعبوں پر ٹیکس میں کمی ہے۔