Sep 19, 2018 03:18 pm
views : 352
Location : Idara Noor-e-Haq
Karachi- Ameer JI Karachi Hafiz Naeem Press Conference
کراچی، کراچی کیلئے پانچ سو ارب کے پیکج کا وقت اور بجٹ کے تعین کے ساتھ اعلان کیا جائے ، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کیلئے پانچ سو ارب روپے کے تین سالہ پیکج ، تمام شعبوں کیلئے جامع اور واضح عملدرآمد منصوبے کا وقت اور بجٹ کے تعین کے ساتھ اعلان کیا جائے ۔کے فور منصوبہ، ایس تھری گرین لائن منصوبے فی الفور مکمل کئے جائیں اور ماس ٹرانزٹ پروگرام اور سرکلر ریلوے کے پروجیکٹ پر فوری کام شروع کیا جائے۔ کراچی کے پانی کے کوٹے میں اضافہ کیا جائے اس کے لیے وفاقی و صوبائی حکومت اپنا کردار اد اکریں،وفاقی او ر صوبائی حکومتوں کی طرف سے کے ای کی حمایت کا سلسلہ بند کیا جائے۔
ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کے ساتھ ساتھ کے الیکٹرک کی جانب سے کراچی کے شہریوں سے لوٹی گئی اربوں روپے کی رقم کی واپسی کو بھی یقینی بنائیں ۔نادرا کی جانب سے عوام سے غیر ضروری اور قدیم دستاویزات طلب کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے ۔بنگالیوں اور افغانیوں کو شناختی کارڈ کی فراہمی کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔مشرقی پاکستان سے ہجرت کر کے آنے والوں کو بھی شناختی کارڈ فراہم کیے جائیں۔پیپلز پارٹی کی جانب سے اس فیصلے کی مخالفت کی ہم مذمت کرتے ہیں ، اس فیصلے کو ہرگز واپس نہیں لیا جانا چاہیئے ۔اس حوالے سے فوری طور پر قانون سازی کی جائے ۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کی سرکاری جامعات شدید مالی بحران کا شکار ہیں ان کو اپ گریٹ کر کے گرانٹ فراہم کی جائے اور وفاقی حکومت بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے ،صفائی ستھرائی ، سڑکوں ، ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے لیے طویل المدتی اور قلیل المدتی منصوبوں کا اعلان کیا جائے ۔
انہو ں نے کہاکہ کراچی میں اس وقت امن و امان کی صورتحال بگڑ چکی ہے ۔ سڑکوں ، گھروں اور دفتروں میں ڈکیتی کی وارداتیں بہت بڑھ چکی ہیں ۔ بچوں کے اغواء کے واقعات نے شہریوں میں خوف و ہراس اور عدم تحفظ احساس پیدا کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان واقعات سے لگتا ہے کہ مجرم شہر میں بڑی تعداد میں موجود ہیں اور جب وہ از خود وارداتیں کم کر دیتے ہیں تو حکومت کی جانب سے جرائم کے خاتمہ کا ڈھول پیٹنا شروع ہو جاتا ہے ۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ جرائم پیشہ افراد کے سر پرست حکومت میں شامل ہوں جن کی وجہ سے ان عناصر کو چھوٹ مل گئی ہو