کراچی، محکمہ بلدیات کے تمام اداروں کو ان کے پیروں پر کھڑاکرینگے، وزیر بلدیات سندھ
وزیر بلدیات سندھ سعید غنی کا کہنا ہے کہ کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی سمیت محکمہ بلدیات کے تمام اداروں کو ان کے پیروں پر کھڑا کرنے کے لئے اقدامات لئے جارہے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے کراچی میں صفائی کے حوالے سے کوئی وارننگ نہیں دی گئی اور نہ ہی وہ قانونی طور پر وارننگ دے سکتے ہیں۔ 18 ویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی باتیں کرنے والے تحریک انصاف کے رہنماء پہلے اس کے مندرجات کو دیکھیں اور انہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ترمیم تمام صوبوں اور سیاسی جماعتوں کی مشاورت اور اتفاق رائے سے منظور کی گئی ہے۔
کے ڈی اے میں اجلاس کے بعد پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعید غنی کا مزید کہنا تھا کہ مئیر کراچی کا اختیار سندھ حکومت کے پاس ہونے کا رونا درست نہیں ہے البتہ ان کے اختیارات گراس روٹ پر ڈی ایم سیز کے پاس ضرور منتقل ہوئے ہیں۔ غیر قانونی تارکین وطن کو شہریت دینے کا سول ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ اس ملک میں ان کا کوئی ڈیٹا ہی موجود نہیں ہے اور گذشتہ روز عمران خان کا اس بیان کو کراچی سے منسلک کرنا ایک اور پنڈورہ باکس کھولنے کے مترادف ہے۔ پاکستانی بنگالیوں اور بہاریوں کو پاکستان بننے کے وقت یہاں تھے ان کو شہریت ضرور ملنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ماسٹر پلان کے حوالے سے مکمل تحقیقات کرکے اسے دوبارہ کے ڈی اے میں شامل کرنے کے حوالے سے غور کیا جارہا ہے اور جلد ہی اس پر فیصلہ کرلیا جائے گا۔ کے ڈی اے کو مالی طور پر مستحکم کرنے کے حوالے سے آج مکمل بریفنگ لی ہے اور جلد ہی گورننگ باڈی کا اجلاس طلب کرکے مزید منصوبوں کی منظوری دی جائے گی اور ان کے دیگر مسائل کا حل نکالا جائے گا۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ، واٹر بورڈ اور آباد کے درمیان این او سی اور نئی تعمیرات کے حوالے سے مسائل کو جلد حل کرلیا جائے گا اور اس سلسلے میں آج ان دونوں محکموں اور آباد کے نمائندوں سے مفید بات چیت ہوئی ہے اور انشاء اللہ جلد ہی یہ مسئلہ بھی حل کرلیا جائے گا۔
اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ آئندہ چند روز میں ہی اس حوالے سے مکمل قانون سازی کرکے عدالتوں میں تمام معاملات کو رکھا جائے گا اور قانون کے مطابق تمام مسائل کا حل کرکے کراچی میں تعمیرات پر عائد پابندیوں کے خاتمے کے لئے حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔
بعد ازاں صوبائی وزیر بلدیات نے کے ڈی اے کے دفتر میں اپنے وزیر کا قلمدان سنبھالنے کے بعد پہلے بار تفصیلی بریفنگ لی۔ اس موقع پر ڈی جی کے ڈی اے سمیع صدیقی اور تمام ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹرز نے صوبائی وزیر کو مکمل بریفنگ دی اور انہیں درپیش مسائل، فنڈز اور رونیو میں ہونے والی کمی کے اسباب سمیت کے ڈی اے کے تحت کی جانے والی کارروائیوں اور اقدامات سے آگاہ کیا۔ دو گھنٹے سے زائد چلنے والے اجلاس کے دوران صوبائی وزیر بلدیات نے کے ڈی اے کے بجٹ، اخراجات، ملازمین، زمینوں کے ریکارڈ، آمدنی کے ذرائع اور انہیں درپیش مسائل سمیت دیگر امور کا جائزہ لیا۔ ڈی جی کے ڈی اے نے اچانک اس بریفنگ کے انعقاد کے باوجود صوبائی وزیر کو ادارے کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔