Dec 06, 2018 10:16 pm
views : 501
Location : Foreign Office
Islamabad- Journalist voxpop about current sutuation
اسلام آباد،پاکستان کے سفارتی معاملات پر مختلف صحافیوں کی رائے اور تجاویز
پاکستان کے امریکا اور بھارت سمیت متعدد ممالک سے تعلقات ہمیشہ اونچ نیچ کا شکار رہے ہیں جس کی وجہ دونوں طرف کے تحفظات تھے ،اس وقت ایک طرف توپاکستان نے سکھوں کی درخواست پر کرتار پوربارڈر کھولنے اور راہداری بنانے کا اعلان کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے وعدے پر عمل درآمد بھی شرو ع کردیا ہے تو دوسرے جانب افغانستان سے امریکی فوج کے باعزت اور محفوظ انخلا اور طالبان سے مذاکرات کیلئے امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان سے خط لکھ کر مدد کی درخواست کی ہے۔
موجودہ حالات کے تناظر میں پاکستان کے سینئر صحافی ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائدے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حالات پہلے جیسے نہیں ہے اور افغانستان کی وجہ سے پاک امریکا تعلقات نئی اہمیت اختیار کرگئے ہیں ، اس سے پہلے امریکی صدر ،امریکی انتظامیہ پاکستان سے متعلق نامناسب رویہ رکھتی تھی اور انتہائی سخت زبان اور سخت لب و لہجے میں بات اور ٹوئٹ کئے جاتے تھے، جوامریکی صدر کی جانب سے وزیراعظم پاکستان کو خط لکھنے کے بعد یکسر بدل چکا ہے،اب اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان تناؤ ختم ہوچکا ہے اور رویے تبدیل ہوچکے ہیں، جس لب و لہجے میں امریکی صدر نے پاکستان کو مخاطب کیا ہے اسی لب و لہجے میں پاکستان نے انہیں جواب دیا ہے،پاک امریکا تعلقات میں افغانستان کی وجہ سے تناؤ اور غلط فہمیاں تھیں جس کے بعد اب پہلی مرتبہ ٹوئٹ کے بجائے باقاعدہ سفارتی طور پر خط لکھ کر مدد طلب کی گئی ہے جس کا جواب دیا گیا ہے ،بعد میں امریکی خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد بھی پاکستان ہوکر جا چکے ہیں، وہ افغانستان کے علاوہ باہمی تعلقات پر بھی بات کرکے گئے ہیں، اب دونوں اطراف سے سب کچھ بدل چکا ہے، امریکا نے کہا ہے کہ پاکستان کے تعاون کے بغیر افغانستان کا بحران حل نہیں ہوسکتا، طالبان سے بات چیت نہیں ہوسکتی تو اگر یہ مثبت لب و لہجہ رہے گا تو معاملات آگے بڑھتے چلے جائیں گے۔اب امریکا کی جانب سے پہلے جیسی الزام تراشی نہیں ہورہی جس کا مطلب ہے کہ وہ اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں جوپاکستان کی مدد کے بغیرناممکن ہے،اور اسی لئے پاکستان کی اہمیت بڑھ چکی ہے۔
دوسری جانب پاک بھارت تعلقات پر بات کرتے ہوئے صحافی انس ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان اور انڈیا کے تعلقات ہمیشہ سے ہی خراب رہے ہیں جس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے معاملات میں بہتری نہیں آسکی، اس وقت انسانی ہمدردی کے طور پر کرتارپوربارڈر پاکستان کی جانب سے کھولنا بہت خوش آئند اور اچھی بات ہے، لیکن بھارت کی جانب سے اسے پرانے تحفظات کی وجہ سے سراہا نہیں گیا، انڈیا کے تحفظات اپنی جگہ سہی ہیں کیونکہ واجپائی کے دور میں کارگل کا سانحہ ہوگیا، سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی نے انڈیا سے بات کرنے کی کوشش کی تو ممبئی حملے ہوگئے، کچھ عرصہ پہلے جب نریندرمودی پاکستان سے ہوکر گئے تو پٹھان کوٹ حملے ہوگئے تو ان کی جانب سے پیش کئے جانے والے تحفظات درست سمجھے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ہم کرتارپورکے معاملات کو بالکل علیحدہ نہیں رکھ سکتے، پاک انڈیا چپقلش ختم ہونے تک معاملات آگے نہیں بڑھ سکتے۔
صحافی اصغر علی مبارک نے پاک امریکا تعلقات کے حوالے سے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے امریکا کی ضرورت رہا ہے، جس وقت روس افغانستان میں آیا تو امریکیوں کی مدد کیلئے صرف پاکستان ہی تھا، اس وقت صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پاکستان اور افغانیوں کی اپنی جدوجہد کی وجہ سے روس پسپا ہواتھا، اس وقت 75فیصد افغانستان طالبان کے قبضے میں ہے، اب مسئلہ کا حل یہی ہے کہ مذاکرات کئے جائیں ، اس وقت وزیراعظم عمران خان کا برابری کی بنیاد پر تعلقات رکھنے کا فیصلہ بالکل درست ہے، پرامن افغانستان ہمیشہ سے پاکستان کی خواہش رہی ہے، نائین الیون کے بعد دنیا کی اسٹریٹیجک صورتحال بالکل بدل چکی ہے اور دہشت گردی کی تعریف بھی بدل گئی ہے، پاکستان کی 70سالہ تاریخ میں کسی لیڈر نے پہلی مرتبہ اتنی مضبوط پوزیشن اختیار کی ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ جو امریکی صدر کا خط آیا ہے وہ ٹوئٹ سے پہلے کا لکھا ہوا تھا یا بعد کا لکھا ہوا ہے، امریکی خط میں امریکی صدر نے پاکستان سے مدد مانگی ہے، دوسری بات یہ ہے کہ افغان جنگ کے دوران جو پاکستان کو نقصانات اور اخراجات ہوئے تھے کیا وہ رقم امریکا پاکستان کو دیگا یا نہیں کیونکہ امریکا ہمیشہ ہم پر پیسے لیکر کھانے اورکام نہ کرنے کے الزامات لگاتا رہا ہے۔معاملات کے حل اورمقاصد کے حصول کیلئے اچھے اوربرے طالبان کی تشریح ختم کرکے تمام طالبان کو ایک میز پر بٹھاکر بات کی جائے گی تودنیا کو اپنامقصد حاصل ہوتا ہوا محسوس ہوگا۔