کوئٹہ،پرندوں کے کاروبار سے وابستہ افراد مشکلات کا شکار
ڈالر کی اونچی اڑان سے حکومت توپر یشان ہے ہی بلکہ عا م شہر ی بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں کو ئٹہ کے کاسی روڈ پرندے فروخت کر نے والے تا جروں کی مشکلات بڑھ گئی کہتے ہیں ڈالر مہنگا ہو نے سے تمام پر ندوں کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں بڑھ گئی کاسی روڈ پر ،چکور ،کبو تر ،دیسی مرغی سمیت دیگر پرندے فروخت کر نے کا واحد مرکز ہے پر ندوں کی خوراک اور دوائیاں بھی مہنگے ہو گئے ہیں۔
پر ندوں کے کاروبار سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے باعث اب فارمنگ کر نا دور کی بات ہے بلکہ ان کے پرندوں کےلئے دانہ اور میڈیسن تک پورا نہیں ہو تا کراچی سمیت بیرونی ممالک سے زیا دہ تر پرندے لائے جا تے ہیں جب ڈالر مہنگا ہو جاتا ہے تو تمام چیزوں کے ساتھ پرندوں کے کاروبار سے منسلک افراد پر یشانی سے دوچار ہو تے ہیں ان کا کہنا ہے چند دن میں فیڈ اور میڈیسن پر ندوں کے ستر فیصد اضا فہ ہوا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان کے مرغی پالنے کے بیان کو سراتے ہو ئے ان کا کہناتھا حکومت اگر فارمنگ میں سنجیدہ لو گوں کو روزگار فراہم کرنا بیرونی ممالک سے لائے گئے پرندوں پر عائد ٹیکس ختم کیے جا ئیں،انہوں نے مطالبہ کیا نئی نسل کے پرندے حکومت دے دیں کو ئٹہ سخت موسم کے باعث پر ندے بیمار ہو رہے ہیں ڈاکٹر ز نہ ہو نے کے باعث پر ندے مر جا تے ہیں۔
ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے پرندوں کا کاروبار کرنے والےبخش محمد کا کہنا تھا کہ یہاں ڈاکٹر نہیں ہے جسکی کی وجہ سے ہرندوں کی اموات میں اضافہ ہورہا ہے۔
عبدالباقی کا کہنا تھا کہ کئی سال سے پرندوں کا شوق ہے کراچی سے پرندے لاتا ہوں اور وہاں لے کر بھی جاتا ہوں،میری خواہش ہے کہ ایمپریس مارکیٹ پر پرندوں کی مارکیٹ دوبارہ بحال ہوجائے۔
حبیب کا کہنا تھا کہ پرندوں پر ٹیکس بالکل ختم کیا جائے تاکہ انہیں پالنے والوں کو آسانی ہو سکے۔