کراچی، سانحہ 12 مئی کے 2 مقدمات میں میئر کراچی وسیم اختر پر فرد جرم عائد
سانحہ 12 مئی کے دو کیسز میں میئر کراچی وسیم اختر اور دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کردی گئی۔
کراچی کی انسدادِ دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں سانحہ 12 مئی کے مقدمات کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے 2 مقدمات میں وسیم اختر اور دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کردی تاہم تمام ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کردیا۔
ملزمان کے وکلا نے اعتراض کیا کہ ہم نے مقدمات کی دوسری عدالت منتقلی کی درخواست دائر کرکھی ہے، اس درخواست کے فیصلے تک فرد جرم مؤخر کی جائے۔ انسدادِ دہشتگردی کی عدالت نے ملزمان کے وکلا کا اعتراض مسترد کرتے ہوئے فرد جرم عائد کردی۔
ان کیسز میں عمیر صدیقی گرفتار ہیں جبکہ وسیم اختر سمیت 19 ملزمان ضمانت پر ہیں جبکہ 20 ملزمان مفرور ہیں۔ وسیم اختر پر پہلے بھی سانحہ 12 مئی کے دو مقدمات میں فرد جرم عائد کی جاچکی ہے۔
عدالت کے باہر ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے میئر کراچی وسیم اختر کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر فاروق ستار کو پارٹی نے جب فارغ کردیا ہے تو وہ گھر میں بیٹھیں اور اللہ اللہ کریں۔ فاروق ستار نے ایم کیو ایم کو برباد کرنے کی کوشش کی ہے۔ پوری جماعت ان پر الزام لگارہی ہے کہ کہ جتنا نقصان فاروق ستار نے پارٹی کو پہنچایا ہے اتنا آج تک کسی نے بھی نہیں پہنچایا۔ فاروق ستار نے جماعت کو تباہ کرکے رکھ دیا تاہم اللہ کا شکر ہے کہ پارٹی اب جن ہاتھوں میں ہے اس کا خدوخال بہت مضبوط ہورہاہے اور ہم آگے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ نالوں اور پارک پر قائم تجاوزات کا خاتمہ ہمارا پہلا ہدف تھا، لوگ رضا کارانہ طور پر بھی خود سے ہماری مدد کررہے ہیں۔
واضح رہے کہ 12 مئی 2007 کو سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور آمریت میں وکلا تحریک کے دوران معزول چیف جسٹس افتخار چوہدری کی کراچی آمد پر سیاسی جماعت کے کارکنوں کی فائرنگ سے وکلا سمیت کم از کم 50 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔