کوئٹہ، ہاتھوں سے بنے جوتے اور چپلوں کی فروخت میں حد درجہ کمی واقع ہونے لگی
ہاتھوں سے بنے جوتے اور چپلوں کی فروخت میں حد درجہ کمی واقع ہونے لگی جس کی وجہ سے اس پیشے سے منسلک دکاندار خاصا پریشانی کے عالم میں مبتلا ہیں۔ متاثرہ دکانداروں نے حکومت وقت سے درآمد اشیاء پر سیلز ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ پاکستانی لوگ مقامی جوتوں اور دیگر اشیاء کی خریداری کو اہمیت دیں۔
چھوٹے کارخانوں اور دکانوں میں جوتے بنانے والے کاریگر انتہائی لگن اور محنت کے ساتھ خوب دیدہ زیب چپلیں اور جوتے تیار کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے تاہم عوام کی جانب سے رجوع نہ کئے جانے پر مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں۔
اس حوالے سے جوتے بنانے ایک کاریگر احسان اللہ کا کہنا تھا کہ بیرون ممالک سے درآمد ہونے والے جوتے اور دیگر اشیاء پر حکومت وقت نیا سیلز ٹیکس عائد کردے تاکہ لوگ اسے خریدنے کی بجائے مقامی جوتوں اور اشیاء کی خریداری کو اہمیت دیں۔ میری حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ فوری طور پر اس ضمن میں اپنی توجہ مرکوز کرے۔
ایک دکاندار کا کہنا تھا کہ شہر میں لیدر کی فیکٹریاں نہیں ہیں جس کی وجہ سے ہمیں ان گنت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔