ویسے
تو بچے پیدائشی طور پر ہی کھلونے کے شوقین ہوتے ہیں لیکن جیسے جیسے ان کی
عمر بڑھتی جاتی ہے ویسے ویسے نت نئے کھلونوں کی طرف ان کادھیان زیادہ جانے
لگتا ہے، لڑکیوں کو تو زیادہ تر صرف گڑیوں کاشوق ہوتا ہے لیکن لڑکوں کو
انواع و اقسام کے مختلف کھلونے سے کھیلنے میں سب سے زیادہ دلچسپی ہوتی ہے،
بچوں کو زیادہ تر پیدائش کے کچھ عرصہ بعد واکر میں بٹھایا جاتا ہے جسے کوئی
کھلونا سمجھتا ہی نہیں ، بچے بڑے ہوں تو چھوٹے کھلونوں کی جگہ ٹرائی
سائیکل، سائیکل یا اب جدید دور کاکھلونا اسکوٹی مانگتے ہیں،پاکستان
خصوصاًکراچی کی سب سے بڑی سائیکل مارکیٹ آرام باغ میں سیکڑوں دکانیں ایسی
ہیں جہاں سائیکل جیسے بیشمارکھلونے سستے یا مناسب پیسوں میں مل جاتے ہیں۔
سائیکل
مارکیٹ کے ایک پرانے دکاندار رحیم داد کا کہنا تھا کہ ان کے پاس ہرقسم کی
اسکوٹیز، چارج ہونے والی بچوں کی چھوٹی گاڑیاں،چھوٹی ٹرائی سائیکل و
موٹرسائیکل ،بے بی سوئنگس اور بچوں کے تمام نئے و پرانے ڈیزائن کے کھلونے
دستیاب ہوتے ہیں جبکہ پورا سال واکر کی فروخت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔
بچوں
کے کھلونے لینے کیلئے آنے والے شخص ریاض الدین نے بتایا کہ یہ کراچی کی
سب سے قدیم ،سب سے بڑی اور بہترین مارکیٹ ہے جہاں بچوں کے تمام کھلونوں
اورسائیکلز سمیت درآمدی اشیااپنی جیب کے حساب سے مل جاتی ہیں جبکہ یہ
سہولیات شہر کی کسی دوسری مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہیں۔