وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ہماری کابینہ کا ایک اصولی
فیصلہ تھا کہ جب بھی جے آئی ٹی یا کوئی بھی تحقیقاتی ادارہ نام بھیجے گا تو
ہم ان ناموں کو ای سی ایل میں ڈالیں گے اور اسی پالیسی کے مطابق ہم نے وہ
نام ای سی ایل پر ڈال دیئے۔
پی آئی ڈی اسلام اآباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری کا
مزید کہنا تھا کہ ہمارے سامنے ماضی کی کچھ مثالیں ہیں کہ جو شخص بھی
پاکستان میں معاون ثابت ہونا تھا اس کو ملک سے باہر فرار کرایا گیا، ہمارے
سامنے سب سے بدترین مثال اسحاق ڈار کی ہے کہ اس وقت کے وزیر خزانہ کو اس
وقت کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنا جہاز دے کر ملک سے فرار کرایا
جو آج تک واپس نہیں آیا۔
فواد چوہدری کا یہ بھی کہنا تھا کہ کابینہ نے یہ فیصلہ کیا کہ سپریم کورٹ
کے احکامات کے مطابق یہ فہرست ای سی ایل نظرثانی کمیٹی کو بھیج دی جائے جو
کہ وزارت داخلہ کے اندر کام کررہی ہے اور پھر اس پر رپورٹ لی جائے، رپورٹ
کا مواد آئندہ ہفتے کابینہ کے سامنے رکھا جائے گا اور وہ بتائیں گے کہ کیا
وجوہات ہیں کہ جس پر وہ سمجھتے ہیں کہ ان ناموں پر ای سی ایل میں ڈالنے پر
نظرثانی ہونی چاہیے، اس مواد کو دیکھ کر ہی فیصلہ کی جائے گا کہ یہ معاملہ
کیسے آگے چلتا ہے۔