واشنگٹن، امریکا اور اسرائیل نے
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی رکنیت سے باضابطہ طور پر علیحدگی اختیار
کرلی
اسرائیل مخالف تعصب کو فروغ دینے کا الزام لگا کر امریکا اور اسرائیل نے
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی رکنیت سے باضابطہ طور پر علیحدگی اختیار
کرلی۔
امریکا اور اسرائیل نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس
اور ثقافت "یونیسکو" کی رکنیت سے باضابطہ طور پر علیحدگی اختیار کرلی،
دونوں
ملکوں نے دعویٰ کیا تھا کہ یونیسکو اسرائیل مخالف تعصب کو فروغ دے رہا ہے۔
اسرائیل اور امریکا کی جانب سے 2017 میں ادارے کی رکنیت چھوڑنے کا اعلان
کیا گیا تھا تاہم اب دونوں ممالک کی جانب سے باضابطہ طور پر یونیسکو کی
رکنیت سے علیحدگی اختیار کرلی گئی ہے۔
واضح رہے کہ 2011 میں جب یونیسکو کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس میں قدیم
مقامات کو فلسطینیوں کا ثقافتی ورثہ قرار دے کر فلسطین کو مکمل رکنیت دی
گئی تو اس فیصلے کے بعد امریکا اور اسرائیل نے واویلا کرتے ہوئے یونیسکو کو
فنڈز کی فراہمی بھی روک دی تھی۔