پاکستان
کے صوبہ بلوچستان کی تحصیل میوند کے علاقے ہڑب اور تمبیل میں موسم کی
تبدیلی کے باعث درجہ حرارت کم ہونے سے بڑوں کے ساتھ ساتھ بچوں میں نمونیہ۔
بخار اور خشک وتر کھانسی سمیت مختلف وبائی امراض پھوٹ پڑے ہیں، علاقے میں
دوردورتک طبی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث علاج نہ ہونے کے سبب موسم کی
تبدیلی سے پیداہونے والے وبائی امراض سے اب تک3 بچوں سمیت 4 افرادہلاک
ہوچکے ہیں۔
صوبائی
وزیر صحت بلوچستان کے اپنے حلقے میں حکومت کی جانب سے طبی سہولتوں کی عدم
فراہمی سے حکومت کے دعووں کی قلعی کھول گئی ہے۔طبی سہولیات کی عدم دستیابی
کے باعث علاج نہ ہونے کے سبب 15 بچوں ، 8 خواتین سمیت 30 افراد اب بھی
علاقے میں بے یارو مددگارگھروں میں پڑے سسک رہے ہیں۔
اس
جدید اورسہولیات سے آراستہ دور میں یہ پورا پہاڑی علاقہ ایسا ہے جہاں پر
ڈاکٹرز اورادویات تودور کی بات ہے کوئی طبی سینٹر،مطب، کلینک، حتیٰ کہ کوئی
عطائی ڈاکٹربھی نہیں ہے۔تمبیل اور ہڑب کے لوگ زندگی کی تمام تر بنیادی
سہولیات سے محروم ہیں۔
کچھ مریض ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال میں زیر علاج ہیں جہاں مکمل طبی سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔
علاقہ
مکینوں نے ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئےے حکومت سے مطالبہ کیا
ہے کہ علاقے میں اموات کاسلسلہ شروع ہوگیاہے جس کے تدارک کیلئے فوری طورپر
طبی سہولیات کی فراہمی کا مستقل بندوبست کیا جائے ۔