Jan 05, 2019 08:32 pm
views : 673
Location : Sindh Boy Scout Association
Karachi- Jashan e Toqeer Dr Shadab Ahsani
کراچی، دو روزہ جشن توقیر ڈاکٹر شاداب احسانی کل پاکستان مشاعرے کا اہتمام
ترقی وترویج ادب کیلئے کوشاں تہذیب انٹرنیشنل کے زیر اہتمام دو روزہ جشن
توقیر ڈاکٹر شاداب احسانی کل پاکستان مشاعرے کا اہتمام کیا گیا۔ سندھ بوائے
اسکاؤنٹس ایسوسی ایشن اسپورٹس کمپلیکس میں منعقدہ دو روزہ مشاعرے میں
نامور شعراء اور ادیبوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی جنہوں نے ڈاکٹر شاداب
احسانی کی خدمات پر سیر حاصل روشنی ڈالتے ہوئے انہیں زبردست الفاظ میں خراج
تحسین پیش کیا۔
تقریب کے مہمان خصوصی جامعہ کراچی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر
پیرزادہ قاسم رضا صدیقی تھے۔ سینئر صحافی شہاب الدین شہاب نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔
تقریب کے دولہا ڈاکٹر شاداب احسانی کا کہنا تھا کہ میں تو اسی فضاء میں
ہوں، مجھے نہیں معلوم کہ میں کتنا اہم اور کتنا غیر اہم ہوں، جب اللہ
تعالیٰ ہماری عزت کراتا ہے اور عزت دیتا ہے تو عزت کرنے والوں کو بھیج دیتا
ہے اور جب ذلیل کرتا ہے تو ذلت کرنے والوں کو بھیج دیتا ہے۔ میں اپنی اس
پذیرائی کو سراہتا ہوں۔
اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی کا کہنا تھا کہ شاداب میں
جو خصوصیات تھیں اس پر میں نے کہا کہ شاداب کالج میں پڑھانے والوں میں بہت
وقعت ہے، وہ بہترین صلاحیتوں سے اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہیں مگر وہاں
تحقیق کا معاملہ اتنا نہیں ہے، بھئی کالج میں تم تو ضائع ہوجاؤ گے ، تمہیں
کراچی یونیورسٹی آنا چاہیے، اس نے کہا یہ کیسے ہوگا میں نے کہا یہی ہوگا،
اگر تم عزم کرلو ۔ شاداب کو بات اچھی لگی اور اس نے طے کرلیا جس کے بعد
یونیورسٹی کو ایک روشن اور اچھا آدمی ملا۔
ڈاکٹر شاداب کی شاگرد ذکیہ رانی کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ
جناب کیسا مزاج ہے، بات بات پر جھنکتے فقرے اور بھئی واہ واہ واہ کی ادا،
آواز کا شعلہ ہر طرح کی لپک سے مامور کبھی مترنم کبھی سپاٹ، بعض واوقات
گنگنا بھی لیتے ہیں اور گمان گزرتا ہے کہ یہ کجریا کیلوں میں اچھے ہوں گے،
مگر زیادہ دیر تک آپ ان کو سماعت نہیں کرسکتے، خاکسار سمجھتی ہے کہ یہ
گنگنانے کا خیال اس وقت بیدار ہوتا ہے جب بہرو پر سکتا یا وتدد مفروق کا
گمان ہو، جونہی یہ مسئلہ حل ہوا گنگناہٹ موضوع پر دلائل کے ہمراہ حاوی
ہوئی، شعبے میں جب سینئر آتے ہیں تو سیڑھی کے آخری زینے سے ہاں بھئی کی صدا
شمال تا جنوب گونج اٹھتی ہے، در ودیوار جان لیتے ہیں کہ سر شاداب کی آمد
ہے۔
تقریب کے آخر میں منتظمین کی جانب سے ڈاکٹر شاداب احسانی کو سندھ کی روایتی اجرک اور پھولوں کا گلدستہ پیش کیا گیا۔