کراچی میں منعقدہ 'ٹی' فیسٹیول میں سیکڑوں شہریوں کی شریک،پسندیدہ چائے سے لطف اندوز ہوئے
پاکستان کاکوئی شہر ہو، گاؤں دیہات یا پھرکراچی، لاہور اور اسلام آباد کے ماڈرن بنگلوں تک ہر محفل اور ہر تقریب کی جان آج بھی چائے ہی ہے۔کراچی سے پشاور تک کسی بھی ریلوے اسٹیشن پر چلے جایئے۔۔ایک مخصوص انداز۔۔ایک خاص طرز میں گونجتی یہ صدا آپ کو یقینا ضرور سنائی دے گی ”چائے۔۔۔ چائے۔۔۔ چائے۔۔“
چائے کی اسی اہمیت کے پیش نظر پویلین اینڈ میں ’ٹی فیسٹیول‘ منایا گیا۔فیسٹیول میں چائے کے لگ بھگ تمام ہی برانڈزہی موجود تھے۔۔اور سب سے بڑھ کرپیش کی گئی تھیں چائے کی وہ قسمیں جنہیں آپ ایک سانس میں اور ایک ہی ’ردم‘ میں ادابھی نہیں کرسکتے مثلاً ’ڈھابے کی چائے‘،’کشمیری چائے‘،’ پشاوری چائے‘ ،’ ،’ کوئلہ چائے‘ ،’الائچی ،دارچینی ، ،ادرک اورپودینے کی چائے‘، ’دودھ قہوہ کی چائے‘ مصالحے والی انڈین چائے،جاپان کی چاول چائے ، ترکی، ایرانی، عربی اور ’انگریزی چائے۔۔۔“
فیسٹیول کے آرگنائزر کا کہنا تھا کہ کراچی والے تو چائے کہ اس حد تک دیوانے ہیں کہ اگر یہ کہا جائے کہ یہ لوگ صرف چائے کے شوقین ہیں تو بالکل غلط نہ ہوگا، شہر کے مختلف علاقوں میں مختلف انداز اوراجزا سے تیار کی گئی چائے بنائی جاتی ہے جسے ہم نے ایک چھت کے نیچے جمع کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ تمام شہریوں کو ایک ہی جگہ پر تمام اقسام کی چائے دستیاب ہو۔
ان کاکہنا تھا کہ ہم نے شہر کی چائے کی ورائٹی ہی ایک جگہ جمع نہیں کی بلکہ لوگوں کی تفریح کیلئے قوالی اور انٹرٹینمنٹ کا انتظام بھی کیاہے۔