Connect Logo
  • Now
  • Featured
  • More...
    • About Us
    • Services
    • Contact Us
    • Careers
  • Login

Featured

Feb 12, 2019 08:43 pm views : 459

Location : Press Club

Peshawar- Transgenders demand notice to Chief Justice against DPO Charsadda
  • Urdu

پشاور، ڈی پی او چارسدہ کا خواجہ سراؤں سے متعلق حالیہ منظور شدہ قانون کو ماننے سے انکار

خواجہ سرا  برادری نے پولیس کے خلاف شکایت کے انبار لگا دئیے  ، کہتے ہیں پہلے حفاظت اور حقوق کے حوالے سے کوئی قانون موجود نہ تھا لیکن تحفظ خواجہ سرا ایکٹ 2018 کے پاس ہونے کے باوجود حقوق کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔
خواجہ سرا کمیونٹی کی صوبائی الائنس ٹرانس ایکشن کی جنرل سیکرٹری آرزو خان نے  پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈی پی او چارسدہ حقوق تحفظ خواجہ سرا ایکٹ 2018 کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ کسی ایسے قانون سے آگاہ نہیں ہیں۔ڈپٹی کمشنر چارسدہ کی اجازت کے باوجود انہیں چارسدہ میں خواجہ سرا شیبا کی سالگرہ منانے کی اجازت نہیں دی گئی،متعلقہ تھانہ 25000 روپے کے عوض سالگرہ کی اجازت دینے اور حفاظت کی ذمہ داری لینے کو تیار تھا لیکن خواجہ سراؤں نے قانونی راستہ اختیار کیا اور رقم دینے سے انکار کیا جس کی انہیں سزا دی گئی۔
خواجہ سراؤں نے کہا کہ نئے آنے والے آئی جی خیبر پختونخوا پولیس کے لئے تربیت کا بندوبست کریں، خیبر پختونخواہ پولیس سالوں سے خواجہ سراؤں کی حفاظت اور حقوق کو یقینی بنانے کے حوالے سے جھوٹے دعوے کرتی آئی ہے اور آج تک ایک بھی وعدہ وفا نہیں کرسکی. اگر ڈی پی او جیسے ذمہ دار پولیس آفیسر کو خواجہ سراؤں کے حقوق اور ان سے متعلقہ قوانین کا علم نہیں تو نچلے درجے کے پولیس افسران کے رویوں اور قانون سے آگاہی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
پشاور پولیس نے خواجہ سرا کمیونٹی سے متعلق ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس کی کبھی میٹنگ منعقد نہ کی جاسکی. سی سی پی او پشاور قاضی جمیل نے خواجہ سرا کمیونٹی سے وعدہ کیا ک ان کی حفاظت اور کیسز کی تفتیش سے متعلق دو کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی لیکن بعد میں وہ اپنے وعدے سے مکر گئے۔
آرزو خان نے کہا کہ ڈی پی او چارسدہ واضح کریں کہ کیا وہ ڈسٹرکٹ میں محکمہ پولیس کے نمائندہ ہیں اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لئے موجود ہیں یا پھر ایک مخصوص حلقے کو خوش کرنے اور اپنے نمبر بنانے کی تنخواہ وصول کرتے ہیں۔
خواجہ سراؤں نے محکمہ انسانی حقوق خیبر پختونخوا، قومی کمیشن برائے انسانی حقوق اور ہائی کورٹ سے اس حوالے  سے انکوائری کا مطالبہ کیا اور نوٹس لینے کی درخواست کی، خواجہ سراؤں نے کہا کہ اگر آئی جی خیبرپختونخوا نے اس حوالے سے کوئی اقدام نہ اٹھایا تو وہ خیبر پختونخوا پولیس کے خلاف ہائی کورٹ میں رٹ دائر کریں گے۔

Recent News

KP Rains Claim 30 Lives as Homes Collapse 1:14
KP Rains Claim 30 Lives as Homes Collapse
Apr 04, 2026 04:30 pm
Thunderstorms Expected in Karachi and Sindh on Monday 1:02
Thunderstorms Expected in Karachi and Sindh on Monday
Apr 04, 2026 03:00 pm
Cristiano Ronaldo Islam conversion 1:14
Cristiano Ronaldo Islam conversion
Apr 04, 2026 01:00 pm
Iran Claims to Down US Fighter Jets 1:16
Iran Claims to Down US Fighter Jets
Apr 04, 2026 12:00 pm
Petrol Price Reduced by Rs. 80 in Pakistan 1:49
Petrol Price Reduced by Rs. 80 in Pakistan
Apr 04, 2026 11:00 am
Free Public Transport Announced in Islamabad and Punjab 1:21
Free Public Transport Announced in Islamabad and Punjab
Apr 03, 2026 05:00 pm
Karachi sinkhole incident 1:02
Karachi sinkhole incident
Apr 03, 2026 04:30 pm
Markets Close at 8 PM to Tackle Energy Crisis 1:43
Markets Close at 8 PM to Tackle Energy Crisis
Apr 03, 2026 03:00 pm
Connect Communications

Company

  • About the TNN
  • Executive Profile
  • Mission Statement
  • Careers

Services

  • Services
  • News feed & Gathering
  • Studio & News Production
  • SNG & DSNG Rental

Contact Us

  • 7th Floor Elahi Centre, Main Regal Chowk, Saddar, Karachi, Pakistan.
  • +92-21-32728591 (NET)
  • info@tnnasia.tv
© Copyright 2026 TNN. All Rights Reserved