خواجہ سرا برادری نے پولیس کے خلاف شکایت کے انبار لگا
دئیے ، کہتے ہیں پہلے حفاظت اور حقوق کے حوالے سے کوئی قانون موجود
نہ تھا لیکن تحفظ خواجہ سرا ایکٹ 2018 کے پاس ہونے کے باوجود حقوق کا
کوئی پرسان حال نہیں ہے۔
خواجہ سرا کمیونٹی کی صوبائی الائنس ٹرانس ایکشن کی جنرل سیکرٹری آرزو خان
نے پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈی پی او چارسدہ حقوق تحفظ خواجہ سرا ایکٹ 2018 کو ماننے سے
انکار کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ کسی ایسے قانون سے آگاہ نہیں ہیں۔ڈپٹی کمشنر چارسدہ کی اجازت کے باوجود انہیں چارسدہ میں خواجہ سرا شیبا کی
سالگرہ منانے کی اجازت نہیں دی گئی،متعلقہ تھانہ 25000 روپے کے عوض سالگرہ
کی اجازت دینے اور حفاظت کی ذمہ داری لینے کو تیار تھا لیکن خواجہ سراؤں
نے قانونی راستہ اختیار کیا اور رقم دینے سے انکار کیا جس کی انہیں سزا دی
گئی۔
خواجہ سراؤں نے کہا کہ نئے آنے والے آئی جی خیبر پختونخوا پولیس کے لئے
تربیت کا بندوبست کریں، خیبر پختونخواہ پولیس سالوں سے خواجہ سراؤں کی
حفاظت اور حقوق کو یقینی بنانے کے حوالے سے جھوٹے دعوے کرتی آئی ہے اور آج
تک ایک بھی وعدہ وفا نہیں کرسکی. اگر ڈی پی او جیسے ذمہ دار پولیس آفیسر کو
خواجہ سراؤں کے حقوق اور ان سے متعلقہ قوانین کا علم نہیں تو نچلے درجے کے
پولیس افسران کے رویوں اور قانون سے آگاہی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا
ہے۔
پشاور پولیس نے خواجہ سرا کمیونٹی سے متعلق ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس کی
کبھی میٹنگ منعقد نہ کی جاسکی. سی سی پی او پشاور قاضی جمیل نے خواجہ سرا
کمیونٹی سے وعدہ کیا ک ان کی حفاظت اور کیسز کی تفتیش سے متعلق دو کمیٹیاں
تشکیل دی جائیں گی لیکن بعد میں وہ اپنے وعدے سے مکر گئے۔
آرزو خان نے کہا کہ ڈی پی او چارسدہ واضح کریں کہ کیا وہ ڈسٹرکٹ میں محکمہ
پولیس کے نمائندہ ہیں اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لئے موجود
ہیں یا پھر ایک مخصوص حلقے کو خوش کرنے اور اپنے نمبر بنانے کی تنخواہ
وصول کرتے ہیں۔
خواجہ سراؤں نے محکمہ انسانی حقوق خیبر پختونخوا، قومی کمیشن برائے انسانی
حقوق اور ہائی کورٹ سے اس حوالے سے انکوائری کا مطالبہ کیا اور نوٹس لینے کی
درخواست کی، خواجہ سراؤں نے کہا کہ اگر آئی جی خیبرپختونخوا نے اس حوالے سے
کوئی اقدام نہ اٹھایا تو وہ خیبر پختونخوا پولیس کے خلاف ہائی کورٹ میں رٹ
دائر کریں گے۔