کراچی،ٹیکس نفاذ اور حکومتی معاشی پالیسیوں کے خلاف ملک گیر تاجروں کی ہڑتال
مرکزی انجمن تاجران پاکستان کی کال پر اضافی ٹیکس اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف ملک بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جارہی ہے۔
کراچی میں انجمن تاجران اور صدر طارق روڈ الائنس کی کال پر آج مارکیٹیں بند رہیں گی جب کہ شہر کی چھوٹی بڑی دکانیں بھی بند ہیں۔ تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے حکومت معیشت تباہ کرنا چاہتی ہے، ویلیو ایڈڈ ٹیکس صرف صارفین پر لاگو ہونے کا کہنا محض دھوکا ہے۔وفاقی بجٹ نے غریب عوام کی چیخیں نکال دی ہیں، آج کی ہڑتال وفاقی حکومت کو آئینہ دکھا دے گی۔
دوسری طرف ہڑتال کے معاملے پر کراچی کی تاجر برادری 2 دھڑوں میں تقسیم ہو گئی۔ تاجر ایکشن کمیٹی نے آج ہونے والی ملک گیر ہڑتال سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔
اس موقع پر الیکٹرانک ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد رضوان کا کہنا تھا کہ ہم ہڑتال نہیں کرنا چاہتے مگر ہم مجبوری میں ہڑتال کررہے ہیں، چیئرمین ایف بی آر نے ہمارے جائز مطالبات نہیں مانے۔ ہم ٹیکس دینا چاہتے ہیں مگر زور ذبردستی اسے ہم پر لاگو نہ کیا جائے۔
محمد رضوان کا مزید کہنا تھا ٹیکس کے نظام کو سادہ بنایا جائے تاکہ ہر کوئی ٹیکس دے سکے، ڈرا دھمکا کے یا نوٹسسز جاری کر کے ٹیکس نہیں لیا جا سکتا۔ہمیں پڑھا لکھا پاکستان دیں گے اور ہمارے جائز مطالبات مانے گے تو ہی تاجروں کے مسائل حل ہوں گے۔
گورنمنٹ کے ٹیکس نظام کواچھا اقدام قرار دیتے ہوئے ایک شہری محمد زبیر کا کہنا تھا کہ عام شہری ٹیکس دیتا ہے تو تاجروں کو بھی ٹیکس دینا چاہئے، ٹیکس دینے سے ملکی معیشت بہتر ہوگی۔