ہیگ،عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن جادھو کی بریت کی بھارتی درخواست مسترد
عالمی عدالت انصاف(آئی سی جے) نے بھارتی جاسوس کمانڈر کلبھوشن جادھو کی بریت کی بھارتی درخواست مسترد کردی۔
آئی سی جے کے جج عبدالقوی احمد یوسف نے 21 فروری کو محفوظ کیا گیا فیصلہ پڑھ کر سنایا،جج نے کہاکہ کلبھوشن جادھو بھارتی شہری ہے۔
جج نے کہاکہ ویانا کنونشن جاسوسی کرنے والے قیدیوں کو قونصلر رسائی سے محروم نہیں کرتا،پاکستان کلبھوشن جادھو کو قونصلر رسائی دے۔
آئی سی جے نے کلبھوشن جادھو کی بریت کی بھارتی درخواست مسترد کردی اور ساتھ ہی کہا کہ بھارتی شہری کی سزا ختم نہیں ہوگی، جادھو پاکستان کی تحویل میں ہی رہے گا۔
کلبھوشن کیس کا فیصلہ سننیکے لئے اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور کی قیادت میں وفد گزشتہ روز دی ہیگ پہنچا تھا،وفد میں ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل بھی شامل ہیں۔
فیصلہ پبلک سٹنگ کے دوران آئی سی جے کے جج عبدالقوی احمد یوسف نے پڑھ کر سنایا،انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت ویانا کنونشن کے فریق ہیں،دونوں ممالک نے 1977ء میں ویانا کنونشن پر دستخط کیے۔
جج نے مزید کہاکہ بھارت نے ویانا کنونشن کے تحت کلبھوشن جادھو تک قونصلر رسائی مانگی ہے جبکہ پاکستان کا الزام ہے کہ بھارت نے جادھو کو دہشت گردی کیلئے پاکستان بھیجا,انہوں نے کہاکہ پاکستان نے بھارتی موقف کے خلاف 3 اعتراضات پیش کیے۔
بھارتی نیوی کے حاضر سروس افسر کلبھوشن جادھو پہلے ہی تسلیم کرچکا ہے کہ وہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا ایجنٹ ہے، جسے پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کے لئے بھیجا گیا تھا۔
کلبھوشن کیس کی آخری سماعت میں پاک بھارت وفود نے شرکت کی تھی،پاکستانی وفد کی سربراہی اٹارنی جنرل انور منصور خان اور بھارتی وفد کی سربراہی جوائنٹ سیکریٹری دیپک متل نے کی تھی۔