کوئٹہ، فیڈرل ایسوسی ایشن گورنمنٹ انجینئرز کا احتجاج
فیڈرل ایسوسی ایشن گورنمنٹ کے انجینئرزکا احتجاج تیسرے روز میں داخل، انجینئرز اپنے مطالبات کی منظوری کے لئے سراپا احتجاج بن گئے۔
فیڈرل ایسوسی ایشن گورنمنٹ انجینئرز نے اپنے مطالبات کے حق میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا، مظاہرے میں بڑی تعداد میں انجینئرز نے شرکت کی۔مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھائے رکھے تھے جس پر صوبوں کی طرح وفاقی انجینئرز کو بھی الاؤنسسز دیئے جانے کے مطالبات درج تھے۔
انجینئرز کا مطالبہ ہے کہ انجینئرز کا معاشی قتل بند کیا جائے،ملک کے دیگر حصوں کی طرح ہمارے الاونسز میں اضافہ کیا جائے،بے روزگار انجینئر کو روزگار فراہم کیا جائے۔ مطاہرین کا کہنا ہے کہ اگر مطالبات تسلیم نا ہوئے تو قلم چھوڑ ہڑتال کر دیں گے۔
مظاہرے میں شریک انجینئر چنگیز نے ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ آج احتجاجی کیمپ کا تیسرا دن ہے۔ اس وقت بدقسمتی سے بلوچستان میں تقریبا چار ہزار انجینئرز بے روزگار ہیں، مختلف ڈپارٹمنٹ میں جکہ ہونے کے باوجود ان کو روزگار نہیں دیا جا رہا ہے۔
انجینئرچنگیز کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن کی طرف سے بی این پی، نیشنل عوامی پارٹی، پشتون خواہ ملی پارٹی اور جماعت اسلامی کے تمام لیڈران یہاں آئے ہیں مگر حکومت کی جانب سے ہمارے مطالبات کے لئے کوئی نہیں آیا ہے۔