کراچی، مطالبات کے حق میں نرسوں کا احتجاج، ریڈزون میں داخلے پر پولیس کا کریک ڈاؤن
ساڈا حق ایتھے رکھ، شہر قائد میں گذشتہ کئی روز سے سندھ بھر کی نرسز الاؤنسز میں اضافے اور دیگر مطالبات کیلئے سراپا احتجا ج ہیں۔مطالبات کے حق میں احتجاج کرنے والی سندھ بھر کی نرسوں کے وزیراعلیٰ ہاؤس کی طرف مارچ پر پولیس نے دھاوا بول دیا اور متعدد نرسوں کو گرفتار کرلیا۔
نرسوں نے اپنے مطالبات کے حق میں کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا اوروزیر اعلی ہاؤس کی طرف مارچ کا اعلان کیا تھا جس کے بعد پولیس نے وزیراعلیٰ ہاؤس جانے والے راستے پر رکاوٹیں لگادیں، رینجرز کی نفری بھی پریس کلب کے قریب پہنچ گئی۔
نرسوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس جانے کی کوشش کی تو پولیس نے مظاہرین کو پی آئی ڈی سی ٹریفک پولیس چوکی کے سامنے روک دیا، مظاہرین کے آگے جانے کی کوشش پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ ہوئی جس کے بعد پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا اور متعدد مظاہرین کو بھی حراست میں لے کر تھانے منتقل کردیا۔
تاہم وزیر اعلیٰ سندھ نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) جنوبی کو تمام گرفتار نرسز کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
اس موقع پر احتجاج میں شریک ایک نرس علیشباہ کا کہنا ہے کہ ہم پندرہ دن سے پریس کلب کے باہر احتجا ج پر ہیں اور آج ہم نے وزیر اعلی ہاؤس کا رخ کیا ہے، ہمارے پرامن احتجاج پر سند پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کیا ہے۔ آج ہیلتھ سیکریٹری یہاں آئے گا ہر نوٹیفیکیشن دے کر جائے گا۔
گمبٹ انسٹیٹیوٹ میڈیکل آف سائنس سے آئے نرس غلام شبیر کا کہنا تھا کہ ہم پندرہ بیس سال سے احتجاج کرتے چلے آرہے ہیں، ہماریپروفیشنل الاؤنسسزاور سروس اسٹرکچر دیا جائے۔
اس موقع پر وزیر اعلی سندھ کے مشیر مرتضی وہاب نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں یہاں وزیر اعلی سندھ کے حکم پرنرسسز کمیونٹی سے بات کرنے آیا ہوں کہ مسائل کا حل احتجاج سے نہیں گفتو شنید سے ہوتا ہے،انہوں نے کہا کہ اس ہفتے میں وزیر اعلی سندھ نے اس مسئلے کے حل کے لئے ایک اعلی سطحی اجلاس کیا تھا جس میں سیکریٹری صحت کوحکم دیا تھا کہ نرسسز سے بات کریں جس پر دونوں پارٹیوں میں کامیاب مذاکرات ہوئے تھے۔