اسلام آباد، ایل این جی کیس: سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی 13روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے
اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ایل این جی اسکینڈل کیس کی سماعت کی،اس سلسلے میں گرفتار سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔ نیب نے احتساب عدالت کے جج محمد بشیرنے سے شاہد خاقان عباسی کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔
شاہد خاقان عباسی نے الزمات کوبے بنیاد قراردیتے ہوئے کہاکہ تعاون کرنے کے باوجود گرفتار کیا گیا پتہ ہے کہ نیب کیوں ریمانڈ مانگ رہا ہے انہیں 90 روزکا ریمانڈ دے دیں جس پرجج محمد بشیر نے ریماکس دیئے کہ قانون کے مطابق 90 روزکا ریمانڈ نہیں دے سکتے۔
شاہد خاقان عباسی نے کیس کو سیاسی قراردیتے ہوئے ریمانڈ پراعتراض نہ ہونے کا مؤقف اپنایا۔
عدالت نے نیب حکام کی جانب سے شاہد خاقان عباسی کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا منظور کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کو 13 روز کے لیے نیب کے حوالے کر دیا جس کے بعد نیب حکام شاہد خاقان عباسی کو اپنے ہمراہ لے کر روانہ ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق قومی ادارہ احتساب (نیب) راولپنڈی اور لاہور کی مشترکہ ٹیم نے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو ٹھوکر نیاز بیگ کے قریب ٹول پلازہ پراس وقت گرفتار کیا جب وہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف کی پریس کانفرنس میں شرکت کے سلسلے میں احسن اقبال کے ساتھ لاہور جارہے تھے۔ نیب پنڈی نے ایل این جی سکینڈل میں باقاعدہ تحقیقات میں شاہد خاقان عباسی کو پہلی بار طلب کیا تھا۔ نیب نوٹس کے مطابق شاہد خاقان عباسی ایل این جی کیس کی اہم معلومات رکھتے ہیں۔