واشنگٹن،تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں،وزیر اعظم
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک کی تنزلی کی اس وجہ بد عنوانی ہے۔ ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔ بھارت کیساتھ کچھ زیادہ مسائل ہیں جنہیں مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔ 10 ماہ کے دوران اصلاحات کیں، معیشت بہتر ہو رہی ہے۔ لوگوں کو ٹیکس دینے کے لیے قائل کر رہا ہوں۔ اپوزیشن ملک کو غیر مستحکم کرنے میں مصروف ہے۔
امریکی تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں امریکی تھنک کا شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھے یہاں مدعو کیا۔ ملک کے حالات بدلنے کے لیے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا۔ ہم ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں، معیشت کو بہتر کرنے کے لیے ہم امن چاہتے ہیں۔ ہم بھارت کیساتھ کچھ زیادہ مسائل ہیں جنہیں مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں، دونوں ممالک میں کشمیر ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ہم نےانڈین وزیراعظم کو کہا ہے کہ اگر آپ ایک قدم بڑھائیں گے تو ہم دو قدم آگے بڑھائیں گے،غربت کو ختم کرنے کے لیے ہمیں مل کر چلنا ہو گا۔
دہشتگردی کی جنگ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے 150 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کیا، اس دوران 70 ہزار کے قریب لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
افغانستان کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم افغانستان کیساتھ بھی اچھے تعلقات چاہتے ہیں،عمران خان کا کہنا تھا کہ ایران کیساتھ ہمارے تعلقات اچھے ہیں، ان کو مزید بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 2014ء کے دوران تحریک طالبان پاکستان نے ایک حملے میں 150 کے قریب پشاور میں بچوں کو شہید کیا، جس کے بعد پارلیمنٹ میں ایک قرار داد پاس کی اور ان کے خلاف جنگ کا فیصلہ کیا، فوج نے بہت شاندار جنگ لڑی اور دہشتگردوں کو ہرایا۔