کراچی،سینٹرل جیل میں پولیس کے مبینہ تشدد سے شہری کی ہلاکت کے خلاف احتجاج
سینٹرل جیل کراچی میں رانا زاہد کے پولیس کے ہاتھوںمبینہ قتل کے خلاف کراچی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا،مظاہرے میں شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، اس موقع پر مظاہرین کی جانب سے سینٹرل جیل میں رانا زاہد کے مبینہ قتل کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی اور ذمہ دار اہلکاروں اور افسران کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ احسن آباد اسکیم 33 میں تجاوزات کے خلاف کاروائی کے نام پر علاقہ پولیس سائٹ سپر ہائی وے اور بلڈر مافیا کی ملی بھگت سے رہائشی گھروں کو مسمار کیے جانے پر احتجاج کرنے والے متاثرہ رانا زاھد کی جھوٹی ایف آئی آر میں گرفتاری اور سینٹرل جیل میں تشدد سے ہلاک کیا گیا جس کی ہم پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور فوری طور پر قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ بھی کرتے ہیںہم مطالبہ کرتے ہیں کہ رانا زاہد کے بہیمانہ قتل کی تحقیقات کی جائے اور پولیس اور بلڈر مافیا کے جو بھی افراد ملوث ہو اس کے خلاف سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جائے۔
ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے رانا احسان کا کہنا تھا کہ راجپوت برادری کے ایک نوجوان کے ساتھ ذیادتی ہوئی انکے مکان کو مسمار کیا گیا اور احتجاج کرنے پر انکے خلاف دہشتگردی کی دفعات لگادی گئیں۔
انکا مزید کہنا تھا کہ واقعے ملوث افراد کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
کو آرڈینیشن چیئرمین آریا سندھ رانا سعید کا کہنا تھا کہ ہم اعلی حکام سے اپیل کرتے ہیں واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی کائے علاوہ ازیں ہم انصاف لے حصول کیلئے پاکستان کے کسی بھی کونے میں احتجاج کرسکتے ہیں۔
مقتول شخص کے بھائی رانا شاہد کا کہنا تھا کہ زاہد کا گھر تو گرایا گیا لیکن اسے تشدد کرکے ہلاک کیا گیا اور دہشتگردی کی دفعات لگائی گئیں یہ کہاں کا انصاف ہے۔