Aug 08, 2019 02:27 pm
views : 286
Location : Different Places
Karachi- Prices of sacrificial animals' feed shoot up
کراچی مہنگائی کاطوفان عروج پر، قربانی کے جانوروں کے چارے آسمان سے باتیں کرنے لگے
شہریوں کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ مہنگائی کے حوالے سے عوام کو ریلیف دیا جائے، دو سال سے صرف سن رہے ہیں کہ ریلیف ملے گا مگر اب تک ایسا ممکن نہیں ہوا ہے۔
سنت ابراہیمی کی ادائیگی کیلئے دنیا بھر کے تمام مسلمان اپنی حیثیت کے مطابق قیمتی اور نایاب جانور گائے، بکرے اور اونٹ عید قرباں سے قبل خریدتے ہیں۔عید قرباں سے قبل بچے جانوروں کی دیکھ بھال میں مصروف ہیں، نہ کھانے کاہوش اور نہ پینے کا، صرف جانوروں کو ٹہلانا اور چارہ دینا ہی ان کا مشغلہ بن گیا۔ہر گلی میں جانور ہی جانور ہیں اور بچے ان کے نگہبان بنے پھر رہے ہیں۔
عید الاضحیٰ کا چاند دکھتے ہی ہر چیز مہنگی ہوجاتی ہے، اسی اثنا ء میں قربانی کے جانوروں کے چارے اور جانوروں کی سجاوٹ کی دیگر اشیاء بھی آسمان سے باتیں کرنے لگی۔گلی محلوں میں لگے قربانی کے جانوروں کیلئے چارے کے اسٹالز اپنی من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں۔
اس موقع پر چارا خریدنے آئے ایک شہری عمران نے ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کی وجہ سے ہم چارے خریدنے سے بھی قاصر ہیں، پہلے جانور اتنا مہنگا اوپر سے چارہ بھی بہت مہنگا ہے سمجھ نہیں آتا کیا لیں کیا نہ لیں؟؟
ایک اور شہری نے مہنگائی کی وجہ حکومت کو قرار دیا اور موجودو حکومت کو نااہل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ عوام کو نہیں صرف خود کا ٹارگٹ پورا کرنے اور اپنے وزراء کو دیکھنے میں مصروف ہے، عیدقرباں تو سنت ہے ادا کرنی ہی ہے اس کے ساتھ ساتھ جشن آزادی بھی بھرپو طریقے سے منائیں گے۔
گائے کا چارا خریدنے آئے ایک شہری محمد جاوید کا کہنا تھا کہ جو چارہ ہم پندرہ دن پہلے ہزار روپے کا خریدتے تھے آج وہ چارا دو ہزار کا مل رہا ہے جس کہ وجہ دوکاندار کبھی پٹرول کی قیمت میں اضافہ بتاتے ہیں تو کبھی بارش کو دجہ ٹہراتے ہیں۔