مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی جاری، 6 کشمیری شہید اور 100 سے زائد زخمی
مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی جاری ہے، بزدل بھارتی فورسز کی نہتے مظاہرین پر فائرنگ سے مزید 6 کشمیری شہید اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔
کشمیریوں کی آواز اور احتجاج روکنے کے لیے چوتھےروز بھی کمیونی کیشن پر مکمل پابندی رہی، انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سروس بند ہے،آج بھی بڑے اخبارات کی اشاعت نہ ہوسکی جبکہ تعلیمی ادارے بند رہے۔
مقبوضہ وادی کے ہر کونے میں بھارتی فورسز کے اہلکار تعینات ہیں،سید علی گیلانی سمیت متعدد حریت اور سیاسی رہنما گھروں یا جیلوں میں قید ہیں۔
دوسری جانب سے نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے کہا ہے کہ وہ کشمیر کی صورت حال پر پریشان ہیں اور چاہتی ہیں کہ سات دہائیوں سے جاری مسئلے کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے۔
بھارتی فیصلے سے عالمی سطح پر بھی تشویش پائی جا رہی ہے،سعودی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کیا جائے، آرٹیکل 370 کو جموں و کشمیر کےلیے خودمختاری کی ضمانت ہے۔
امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے کہا ہے کہ امریکا کو پاک بھارت کشیدگی ختم کرنے کےلیے کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ دنیا کسی طور پر اس کی متحمل نہیں ہوسکتی۔