اسلام آباد،بھارت کچھ بھی کرنے سے پہلے 27 فروری کو یاد رکھے،ترجمان دفتر خارجہ
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت کے یکطرفہ اقدام کو مسترد کرتے ہیں، پاکستان کشمیریوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا، وادی دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل ہوچکی ہے۔
دفتر خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیربھارت کا داخلی معاملہ نہیں ہم بھارت کا یہ جھوٹا دعویٰ اور مقبوضہ کشمیر سے متعلق ان کے یک طرفہ اقدامات مسترد کرتے ہیں، کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں موجود ہے جو انہیں قراردادوں کے مطابق حل ہونا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم نے تمام آپشنز استعمال کرنے کا کہا ہے، قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں سے بھارت کو آگاہ کر دیا، مقبوضہ کشمیر کے عوام کی اخلاقی و سفارتی حمایت جاری رکھیں گے، پاکستان اپنا ہائی کمشنر بھارت نہیں بھیج رہا، خوف مسلمانوں کی ڈکشنری میں شامل نہیں لہذا بھارت کچھ بھی کرنے سے پہلے 27 فروری کو یاد رکھے۔
ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ ایک کروڑسے زائد افراد کو مقبوضہ کشمیر میں نظربند کر دیا گیا ہے، جو ہونے جا رہا ہے عالمی برادری اس کا نوٹس لے رہی ہے، دنیا سے توقع ہے بھارت کو اس غیرقانونی اقدام سے روکے اور ہم بھی اقوام متحدہ اور عالمی عدالت انصاف میں جائیں گے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں سلامتی کونسل کےمستقل رکن ممالک کومقبوضہ کشمیرکی صورتحال پربریفنگ دی گئی، اسلامی دنیا سے ردعمل آرہا ہے لیکن زیادہ ترمسلم ممالک حج کے معاملات میں مصروف ہیں اور اب تو بھارت میں بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ یہ آپ نے کیا کر دیا جب کہ حافظ سعید کو رہا نہیں کیا جا رہا، ایسی خبریں جعلی ہیں۔
ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا پاکستان کرتارپور راہداری پر کام جاری رکھے گا، بھارت نے حریت رہنماؤں کو گرفتار کیا ہوا ہے، عالمی برادری بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں مظالم کا نوٹس لے، بھارتی اقدامات سے علاقائی امن و سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔