کرتارپور راہداری،بھارتی پنجاب کے وفد کی پاکستان آمد کا امکان
کرتارپور راہداری پر بات چیت کے لیے بھارتی پنجاب کے سینیئر وزیر اور اراکین پارلیمنٹ کے ایک وفد کی پاکستان آمد کا امکان ہے۔
پاکستان اور بھارت کے مابین بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے پر تناؤ ہے اور پاکستان نے بھارت کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کم کیے ہیں اور بھارتی سفیر کو پاکستان سے واپس بھیجا جاچکا ہے جبکہ ریل اور بس کے رابطے بھی منقطع کردیئے گئے ہیں۔ تناؤ کے اس ماحول کے باوجود پاکستان کی طرف سے کرتار پور کوریڈور کی تعمیر جاری ہے اور اسی سلسلے میں بات چیت کے لیے بھارتی پنجاب کے سینیئر وزیر اور اراکین پارلیمنٹ کے ایک وفد کی پاکستان آمد کا امکان ہے۔
مشرقی پنجاب کے وزیر اور بھارت کی طرف سے کرتار پور کوریڈور بارے بنائی گئی کمیٹی کے سربراہ سکھ جیندر سنگھ رندھاوا کی سربراہی میں مشرقی پنجاب کے 3 وزرا پر مشتمل ایک وفد کی پاکستان آمد کی اطلاعات ہیں۔ یہ وفد پنجاب کے وزیراعلی سردار عثمان بزدار، وزیراعظم عمران خان اور گورنر پنجاب سے بھی ملاقات کرے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مشرقی پنجاب کے وزیراعلٰی کیپٹن امریندر سنگھ کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کو ایک خط لکھا گیا ہے جس میں ان سے کرتار پور کوریڈور کا کام جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ بھارتی پنجاب کے وزرا سے ملاقات کی درخواست بھی کی گئی ہے۔ بھارتی پنجاب کے وزرا کا وفد 22 سے 28 اگست کے درمیان واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان آسکتا ہے۔