مظفرا ٓباد،مقبوضہ کشمیر میں پیاروں کی زندگیاں بچانے کے لئے مدد کی اپیل، کشمیریوں کی دہائی
مقبوضہ جموں کشمیرمیں اپنے پیاروں کی زندگیاں مشکل میں دیکھ کر منقسم کشمیری خاندانوں کے بچے، بچیاں خواتین اور بزرگ بھارت کیخلاف احتجاج کے لئے نکل آئے۔ اقوام متحدہ،سلامتی کونسل اور او آئی سی سے جموں کشمیر میں انسانیت بچانے کے لئے فوری مدد کی اپیل کردی۔
تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں مسلسل چودہویں دن ہندوستانی حکومت اور قابض افواج کی جانب سے جاری کرفیو، پاپندیوں اور مواصلاتی نظام کے بند کیئے جانے کیخلاف انٹرنیشنل فورم فار جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس کے زیر اہتمام سنٹرل پریس کلب کے سامنے کشمیری منقسم خاندانوں کے سینکڑوں لوگوں نے احتجاجی دھرنا دیا اور ریلی نکالی۔ دھرنے میں بچوں، بچیوں اور خواتین نے منہ پر سیاہ پٹیاں باندھ کر شرکت کی اور کچھ دیر جموں کشمیرکے غم میں خاموشی اختیار کیئے رکھی۔
دھرنے میں شریک خاندانوں نے بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیر میں بھارتی مظالم، کرفیو کے نفاظ، ناکہ بندیوں اور گرفتاریوں کیخلاف نعرے درج تھے۔
اس موقع پر مظاہرے میں شریک آزاد کشمیر کے سابق وزیرمحمد حنیف اعوان نے ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 1947 میں سلامتی کونسل سے جو قراردادمنظور ہوئی تھی اس کے مطابق کشمیریوں کا ان کے حقوق دیئے جائیں اور پوری دنیا یہ جان لے کہ پاکستا ن اور بھارت دونوں ایٹمی قوتیں ہیں اور کوئی ایک چھوٹا حادثہ بھی پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
مظا ہرے میں شریک ایک خاتون مشاء خان کا کہنا تھاکہکشمیر میں پندرہ روز سے کرفیو نافذ ہے کھانے پینے کے لئے کچھ میسر نہیں ہے، آخر کب تک ماؤں کے سامنے ان کے لخت جگر کو ذبح کیا جاتا رہے گا، اس پر اقوام متحدہ کیوں آواز نہیں اٹھا رہی ہے آکر ہم کب تک ظلم سہتی رہیں گے۔