کراچی،شہر بھر میں صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات،شہری پریشان
تبدیلی کے دعویداروں کے جانب سے کئے گئے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے شہری دہرے عذاب میں مبتلا ہیں۔ وفاقی وزیر علی زیدی کی دو ہفتوں میں شہر کی صفائی مہم بھی کسی کام نہ آئی۔کہیں کچرے کے ڈھیر ہیں تو کہیں ٹھاٹھے مارتا گندا پانی، تعفن زدہ کچرے کے ڈھیر سے شہر میں بیماریاں پھیلنے لگیں۔شہریوں کا مطالبہ ہے کہ جلد سے جلد صفائی کروائی جائے۔
اہل کراچی کے لئے ایک کے بعد ایک کڑا امتحان جاری ہے۔شہر کے تمام داخلی اور خارجی راستوں، چوراہوں، اسکولوں اور کالجز کے سامنے گندگی کے بڑے بڑے ڈھیر لگے گئے ہیں جس سے ناصرف شہری پریشان ہیں بلکہ طلباء اور طالبات بھی تعفن زدہ ماحول میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔
اس حوالے سے ایک خاتون کرن نے ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم کتنی بار شکایت کرچکے ہیں مگر کوئی شنوائی نہیں ہے کچرے کے ڈھیر کی وجہ سے اتنی بیماریاں پھیل رہی ہیں جب کہ میرا پورا گھر بیمار ہے۔
ایک بزرگ لئیق احمد کا کہنا تھا کہ روڈ ٹوٹ ہوئے ہیں،گٹر کے ڈھکن غائب ہیں دعا کرتا ہوں کسی دن ؎ کوئی حادثہ نہ ہو جائے، ایک ہفتے میں کے ایم سی میرا ساتواں یا آٹھواں چکر ہے مگر کوئی ابھی تک کچرا اٹھانے کوئی نہیں آیا ہے، اب میں ایسٹ کمشنر کے پاس درخواست لے کر جارہاہوں کہ اس روڈ کو ٹھیک کیا جائے۔
ایک نوجوان محمد شعیب کا کہنا تھا کہ گزشتہ بارشوں اور عید قرباں کے بعد اس جگہ کا بہت برا حال ہے، گٹر لائنیں ابل آئی کچرے کا ڈھیر لگ گیا جس کی وجہ سے لوگ بیمار ہونے لگے ہیں۔ہمارا انتظامیہ سے مطالبہ ہے کہ صفائی کروائی جائے۔
ایک اسٹوڈنٹ طحہٰ کا کہنا تھا کہ پورا کراچی کچرے کچرے میں ہورہا ہے جس کی وجہ سے اتنی مکھیاں ہیں ہمارے اسکول میں مکھیاں ہیں جس کی وجہ سے ہم بیمار ہورہے ہیں۔