مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 29 ویں روز بھی کرفیو، غذائی قلت شدت اختیار کر گئی
کشمیریوں پر کرفیو اور پابندیاں برقرار ہیں۔زیر حراست ہزاروں کشمیریوں پر کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کر دیا گیا۔
اس کالے قانون کے تحت کوئی بھی پولیس اہلکار کسی بھی شہری کو کہیں سے بھی محض شک کی بنیاد پر گرفتار کر سکتا ہے اور گرفتار کیے گئے شہری کے اہل خانہ کو خبربھی نہیں کی جاتی اورنہ ہی اسے قانونی مددحاصل کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔جبکہ بیرونی دنیا سے رابطہ بھی منقطع کردیا جاتا ہے۔ وادی میں اب تک حریت رہنماؤں سمیت دس ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔
کرفیو کے باوجود کشمیریوں کی مزاحمت میں کمی نہ آئی،سری نگر سمیت مختلف علاقوں میں کشمیری نوجوان سخت پابندیوں کے باوجود بھی احتجاج کر رہے ہیں جبکہ وادی میں غذائی قلت بھی شدت اختیار کر گئی ہے۔