اسلام آباد، پاکستان میں کورونا سے بچاؤ کے "مکمل انتظامات "ہیں، ڈاکٹر ظفر مرزا
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے اجلاس میں معاون خصوصی برائے صحت ظفر مرزا نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے "انتظامات مکمل "ہیں اور اسلام آباد ائیرپورٹ پر مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
چین کے شہر ووہان میں پھنسے پاکستانی طالبعلموں کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ وہاں رہنے والے پاکستانیوں کا پورا خیال کیا جا رہا ہے، مزید پاکستانیوں کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوا۔
ظفر مرزا نے بتایا کہ چین سے پاکستان کے لیے فلائٹ آپریشن "معطل "نہیں کیا گیا بلکہ پاکستان میں "رسک "دیکھ کر اقدامات کیے گئے، سوچنے سمجھنے کے بعد فلائٹ "نہ بند "کرنے کا اعلان کیا۔
لاہور اسلام آباد میں چین سے فلائٹ آرہی ہیں لیکن کچھ فلائٹ پر کنٹرول کیا ہے اور چینی حکومت سے "معاہدہ "ہوا ہے کہ ووہاں سے آنے والے ہر شخص کو 14 دن کورونا کے حوالے سے "کورس کر کے آنے دیا جائے"۔
ان کا کہنا تھا 23 جنوری کو اس حوالے سے بتا دیا تھا کہ یہ "وائرس خطرناک "ہو سکتا ہے، چینی حکومت کسی کو بھی اجازت نہیں دے رہی کہ ووہان سے کوئی بھی شخص دوسرے ملک جائے۔
ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ 620 طلباء ووہان میں موجود ہیں، تمام طالب علموں سے "رابطے "میں ہیں، طلباء بہت "پریشان "ہیں، میں نے اور زلفی بخاری نے 16 طلباء کے ساتھ بات کی، گزشتہ تین سے چار روز سے طلباء میں "تشویش" زیادہ بڑھ گئی ہے کیونکہ جن ہو میڈیکل یونیورسٹی میں پاکستانی طلباء پڑھ رہے ہیں اور یونیورسٹی کے قریب مریضوں کو رکھا گیا ہے جس پر "تشویش "میں اضافہ ہوا۔