Feb 12, 2020 06:47 pm
views : 244
Location : National Assembly
Islamabad- Hafeez Sheikh rejects reports about decrease of auto sale
اسلام آباد، جو لوگ آئی ایم ایف دفتر میں "گھس "نہیں سکتے وہ اس پر "تنقید "کررہے ہیں، مشیر خزانہ
مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات میں پاکستانی ٹیم کو آئی ایم ایف کا "نمائندہ "کہا گیا جس پر "افسوس "ہوا، پاکستان کو رضا باقر پر "فخر "ہونا چاہیے، گورنر اسٹیٹ بینک "بہت قابل "شخص ہیں جو "ایمانداری "سے آئی ایم ایف میں تعینات ہوئے، انہوں نے ملک کے لیے آئی ایم ایف کی نوکری کو "ٹھکرایا"، آئی ایم ایف میں رکن قومی اسمبلی کا بندہ ہونے پر نوکری نہیں ملتی۔
حفیظ شیخ نے آئی ایم ایف کے پاس جانے پر حکومت پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 2008اور2013کی حکومتیں بھی آئی ایم ایف کے پاس گئی تھیں، آئی ایم ایف کے پاس "خوشی "سے نہیں جاتے، حالات "مجبور "کرتے ہیں۔
مشیر خزانہ کا کہنا تھا المیہ یہ ہے کہ "72 سال "میں ملک کا ایک بھی وزیراعظم اپنی مدت "پوری "نہیں کر سکا، ہم ٹیکس اکھٹا کرنے کے نظام میں "کامیاب "نہیں ہو سکے، ہم دیکھتے ہیں لوگوں کی امیدیں پوری نہیں ہوئیں، اگر ہمیں ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ کھڑا ہونا ہے تو ہمیں لوگوں پر "خرچ "کرنا ہوگا، یہ نہیں ہو سکتا کہ لوگ پسماندہ ہوں اور ملک ترقی یافتہ ہو۔
عبدالحفیظ شیخ نے مالی بحران کو "ٹالنے "کی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سویلین حکومت کے بجٹ میں "40 ارب "روپے کمی کی گئی، فوج کا بجٹ "منجمد "کرنے میں آرمی چیف جنرل باجوہ نے حکومت کی حمایت کی، ایوان صدر وزیر اعظم آفس کے اخراجات "کم "کئے گئے، کوئی حکومت ایسے "سخت "فیصلے نہیں کر سکتی تھی لیکن ہم نے یہ کام کیے، سخت بجٹ دیا اور "سخت اہداف "رکھے۔