Feb 16, 2020 08:31 pm
views : 239
Location : Different Places
Islamabad- UN Secretary General urges World to address challenges of climate change,UNSG thanks Pakistan for hospitality
اسلام آباد،مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کا احترام ہونا چاہیے،سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کا احترام ہونا چاہیے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کا حامی ہوں۔
اسلام آباد میں موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے تقریب میں نشست کے دوران سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن اور اس صورتحال میں اقوام متحدہ کے کردار کے بارے میں سوال کیا گیا تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ یہ واضح طور پر کہتے ہیں کہ یہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کا مکمل احترام کیا جائے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں پر خطاب میرے لیے اعزاز ہے، پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والا بڑا ملک ہے، پائیدار ترقی کے اہداف انسانی ترقی کے لیے ضروری ہیں۔
انتونیو گتریس کا کہنا تھا کہ مختلف آفات سے متاثر ہونے والے افراد سے اظہار یکجہتی کرتا ہوں، ہمارا مشترکہ وژن موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنا ہے۔ پائیدار ترقی کے اہداف انسانی ترقی کے لیے ضروری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غربت کا خاتمہ پاکستان کی پالیسی کا بنیادی حصہ ہے، تعلیم، معیشت اور برابری ترقی کے لیے اہم ہیں۔ پاکستان پائیدار ترقی کے اہداف کے لیے کاوشیں کر رہا ہے۔ پاکستان میں سب کے لیے صحت اور سہولت فراہمی کے وژن سے متاثر ہوں۔ پاکستان کو صحت سمیت مختلف شعبوں میں چیلنجز درپیش ہیں۔
سیکریٹری جنرل نے مزید کہا کہ پاکستان اور بھارت میں پانی کے استعمال کا معاہدہ موجود ہے، دونوں ممالک میں عالمی بینک کے تحت پانی کے استعمال کا معاہدہ ہے۔ پانی کو تنازعے کی وجہ نہیں بلکہ حل ہوناچاہیئے۔
قبل ازیں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گتریس نے اسلام آباد میں مہاجرین سے ملاقات کی جن میں افغانستان، یمن اور تاجکستان کے مہاجرین شامل تھے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گتریس نے مہاجرین سے ملاقات کے دوران کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے افغان مہاجرین کی مہمان نوازی کر رہا ہے، افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
اس موقع پر مہاجرین نے پاکستان میں تعلیم، کاروبار اور ہنر سے متعلق اپنے تجربات کا اظہار کیا۔
ملاقات کے دوران سیکریٹر جنرل انتونیو گتریس کا کہنا تھا کہ پاکستان مہمان نواز ملک ہے، پاکستان نے خصوصی طور پر افغان پناہ گزینوں کی مہمان نوازی کی۔ افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے افغان مہاجرین کی مہمان نوازی کر رہا ہے۔ یہاں آنے کا مقصد پاکستان کی دریا دلی کو سراہنا ہے۔
ملاقات میں مہاجرین کے نمائندوں نے پاکستان اور پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کیا، مہاجرین کے وفد کا کہنا تھا کہ عظیم قوم نے ہماری دیکھ بھال کی، ہم میں سے کچھ یہیں پیدا ہوئے۔
وفد نے کہا کہ پاکستانی قوم کی جانب سے ہمارا خیال رکھا گیا ہے، پاکستان نے سر چھپانے کی جگہ اور کاروبار و تعلیم کے مواقع فراہم کیے۔
خیال رہے کہ پاکستان ترکی کے بعد مہاجرین کی میزبانی کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔ مہاجرین میں زیادہ تر افغانی ہیں جو 45 لاکھ کی تعداد میں افغانستان کی جنگ کے دوران پاکستان آئے۔
پاکستانی قوم مہاجرین کی بھرپور لگن و جذبے سے میزبانی کر رہی ہے، اس وقت بھی 27 لاکھ افغان مہاجرین پاکستان میں قیام پذیر ہیں۔