Feb 17, 2020 03:54 pm
views : 237
Location : Islamabad high court
Islamabad- no institution is weak enough to say anything, Chief Justice IHC
اسلام آباد، کوئی ادارہ اتنا کمزور نہیں کہ کسی کے کہنے سے "کچھ "ہوجائے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے پی ٹی ایم اور عوامی ورکرز پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی آئینی درخواستوں پر سماعت کی۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ پی ٹی ایم اور عوامی ورکرز پارٹی کے خلاف مقدمہ ختم کردیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈپٹی کمشنر کے بیان پر تمام آئینی درخواستیں نمٹا دیں۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے عوامی ورکر پارٹی کے رہنماؤں سے مخاطب ہوتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اسلام آباد انتظامیہ کے بیان کے بعد تمام درخواستیں "غیر موثر "ہوگئی ہیں، آپ تو پرامن مظاہرین ہیں، اگر آپ کوروکا جائے تو دوبارہ آسکتے ہیں، آپ احتجاج کرنا چاہتے ہیں تو "اجازت "لیں، نہ ملے تو "عدالت "موجود ہے،آئینی عدالتیں شہریوں کے آئینی حقوق کا "تحفظ "یقینی بنائیں گی۔
جسٹس اطہر من اللہ نے نے ریمارکس دیئے کہ جمہوری حکومت سے ہم توقع نہیں کرتے کہ وہ آزادی اظہار رائے پر "قدغن" لگائے، پی ٹی آئی نے بھی 2014 میں دفعہ 144 کے خلاف پٹیشنز دائر کی تھیں، امید ہے حکومت آزادی اظہار رائے کے بنیادی حق کو مدنظر رکھے گی اور اظہار رائے پر قدغن نہیں لگائے گی۔جو کچھ آج بھارت میں ہو رہا ہے وہ یہاں نہیں ہو گا۔
ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کے روبرو درخواست کی کہ 20 سال دہشت گردی کا مقابلہ کیا، مظاہرین کا خفیہ ایجنڈا تشویشناک تھا، ریاست کے خلاف کوئی بات نہ کرے، ریاست کو گالی دینے اور نفرت انگیز تقاریر کے خلاف بھی تحریری حکم لکھ دیں۔ جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ ملک میں جمہوریت ہے،پارلیمنٹ کو فیصلہ کرنے دیں، 25 افراد کے احتجاج سے کسی کو کچھ نہیں ہوتا، تنقید سے ڈرنا نہیں چاہیے، ریاست یا کوئی ادارہ اتنا کمزور نہیں کہ کسی کے کہنے سے کچھ ہوجائے۔