کراچی، سندھ سے کوئی "دہشت گرد "نہیں نکلا لیکن "لائے "جاتے ہیں، مراد علی شاہ
کراچی میں زیر تربیت اسسٹنٹ کمشنرز سے ملاقات کے دوران مراد علی شاہ نے ایک وقت تھا کہ پورے ملک میں قتل و غارت ہو رہی تھی، ہر طرف افراتفری، بم دھماکے، ٹارگٹ کلنگ اور اغوا کے واقعات جاری تھے، پھر حکومت نے فیصلہ کیا کہ "ٹارگٹڈ آپریشن "شروع کیا جائے، پاک فوج نے "ضربِ عضب "آپریشن شروع کیا، پاکستان کے عوام کی مدد سے دہشت گردوں کے خلاف "جنگ "لڑی اور ان کو "ختم "کیا، آج پورا ملک خاص طور پر سندھ "پُرامن "ہے۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ "60 فیصد "گیس پیدا کرتا ہے، تھر میں "88 بلین ٹن "کے کوئلے کے ذخائر ہیں، تھر کے کوئلے پر سب سے پہلے "شہید محترمہ بینظیر بھٹو "نے کام شروع کیا، بینظیر بھٹو نے ہانگ کانگ کی کمپنی سے معاہدہ کیا تاکہ مائننگ کر کے پاور پلانٹ لگا سکیں، ان کے بعد والی حکومت نے وہ "معاہدہ ختم "کر دیا اور ملک لوڈشیڈنگ کی "نذر "ہو گیا، سندھ حکومت نے پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت تھر میں "مائننگ "کی اور سی پیک کے تحت 660 میگا واٹ کا پاور پلانٹ لگایا، یہ ملک کی سب سے بڑی "پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ "ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ سندھ میں ہوا سے "50 "ہزار میگا واٹ بجلی بنائی جاسکتی ہے۔ اس وقت ہم "1100" میگا واٹ ونڈ انرجی کی پیداوار کر رہے ہیں۔ صوبائی حکومت نے اپنے وسائل سے دریائے سندھ پر "2 پل "بنائے ہیں۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ جب وفاق سے سندھ کو جناح اسپتال، این آئی سی وی ڈی اور این آئی سی ایچ منتقل ہوئے تو ان کا مجموعی بجٹ 70 کروڑ روپے تھا اور ہمارا بجٹ ان اسپتالوں کے لئے 13 ارب روپے ہے۔